منسوؔ ب کردیا۔ بُدھ کا بعینہٖ حضرت مسیح کی طرح مثالوں میں اپنے شاگردوں کو سمجھانا خاص کر وہ مثالیں جو انجیل میں آچکی ہیں نہایت حیرت انگیز واقعہ ہے۔ چنانچہ ایک مثال میں بُدھ کہتا ہے کہ ’’جیسا کہ کسان بیج بوتا ہے اور وہ نہیں کہہ سکتا کہ دانہ آج پھولے گا اور کل نکلے گا ایسا ہی مرید کا حال ہوتا ہے یعنی وہ کچھ بھی رائے ظاہر نہیں کر سکتا کہ اس کا نشو و نما اچھا ہوگا یا اس دانہ کی طرح ہوگا جو پتھریلی زمین میں ڈالا جائے اور خشک ہوجائے‘‘۔ دیکھو بعینہٖ یہ وہی مثال ہے جو انجیل میں اب تک موجود ہے۔ اور پھر بُدھ ایک اور مثال دیتا ہے کہ ایک ہرنوں کا گلہ جنگل میں خوشحال ہوتا ہے تب ایک آدمی آتا ہے اور فریب سے وہ راہ کھولتا ہے جو ان کی موت کا راہ ہے یعنی کوشش کرتا ہے کہ ایسی راہ چلیں جس سے آخر پھنس جائیں اور موت کا شکار ہوجائیں۔ اور دوسرا آدمی آتا ہے اور وہ اچھا راہ کھولتا ہے یعنی وہ کھیت بوتا ہے تا اس میں سے کھائیں۔وہ نہر لاتا ہے تا اس میں سے پیویں اور خوشحال ہو جائیں ایسا ہی آدمیوں کا حال ہے وہ خوشحالی میں ہوتے ہیں شیطان آتا ہے اور بدی کی آٹھ راہیں ان پر کھول دیتا ہے تا ہلاک ہوں۔ تب کامل انسان آتا ہے اور حق اور یقین اور سلامتی کی بھری ہوئی آٹھ راہیں ان پر کھول دیتا ہے تا وہ بچ جائیں‘‘۔ بُدھ کی تعلیم میں یہ بھی ہے کہ پرہیزگاری وہ محفوظ خزانہ ہے جس کو کوئی چرا نہیں سکتا۔ وہ ایسا خزانہ ہے کہ موت کے بعد بھی انسان کے ساتھ جاتا ہے۔ وہ ایسا خزانہ ہے جس کے سرمایہ سے تمام علوم اور تمام کمال پیدا ہوتے ہیں۔ اب دیکھو کہ بعینہٖ یہ انجیل کی تعلیم ہے اور یہ باتیں بدھ مذہب کی ان پرانی کتابوں میں پائی جاتی ہیں جن کا زمانہ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ سے کچھ زیادہ نہیں ہے بلکہ وہی زمانہ ہے۔ پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۳۵ میں ہے کہ بدھ کہتا ہے کہ میں ایسا ہوں کہ کوئی مجھ پر داغ نہیں لگا سکتا۔ یہ فقرہ بھی حضرت مسیح کے قول سے