دلؔ میں گذرتا ہے کہ یہ سب باتیں حضرت مسیح کی تعلیم کی نقل ہیں جبکہ وہ اس ملک ہندوستان میں تشریف لائے اور جابجا انہوں نے وعظ بھی کئے تو ان دنوں میں بُدھ مذہب والوں نے ان سے ملاقات کر کے اور ان کو صاحبِ برکات پاکر اپنی کتابوں میں یہ باتیں درج کرلیں بلکہ ان کو بُدھ قرار دے دیا۔ کیونکہ یہ انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ جہاں کہیں عمدہ بات پاتا ہے بہر طرح کوشش کرتا ہے کہ اس عمدہ بات کو لے لے یہاں تک کہ اگر کسی مجلس میں کوئی عمدہ نکتہ کسی کے منہ سے نکلتا ہے تو دوسرا اس کو یاد رکھتا ہے۔ تو پھر یہ بالکل قرینِ قیاس ہے کہ بُدھ مذہب والوں نے انجیلوں کا سارا نقشہ اپنی کتابوں میں کھینچ دیا ہے مثلاً یہاں تک کہ جیسے مسیح نے چالیس روزے رکھے ویسے ہی بُدھ نے بھی رکھے اور جیسا کہ مسیح شیطان سے آزمایا گیا ایسا ہی بُدھ بھی آزمایا گیا اور جیسا کہ مسیح بے پدر تھا ویسا ہی بُدھ بھی۔ اور جیسا کہ مسیح نے اخلاقی تعلیم بیان کی ویسا ہی بُدھ نے بھی کی۔ اور جیسا کہ مسیح نے کہا کہ میں نور ہوں ویسا ہی بُدھ نے بھی کہا۔ اور جیسا کہ مسیح نے اپنا نام استاد رکھا اور حواریوں کا نام شاگرد ایسا ہی بُدھ نے رکھا۔ اور جیسا کہ انجیل متی باب ۱۰ آیت ۸و۹ میں ہے کہ سونا اور روپا اور تانبا اپنے پاس مت رکھو یہی حکم بُدھ نے اپنے شاگردوں کو دیا۔ اور جیسا کہ انجیل میں مجردّ رہنے کی ترغیب دی گئی ہے ایسا ہی بُدھ کی تعلیم میں ترغیب ہے۔ اور جیسا کہ مسیح کو صلیب پر کھینچنے کے بعد زلزلہ آیا ایسا ہی لکھا ہے کہ بُدھ کے مرنے کے بعد زلزلہ آیا۔*پس اس تمام مطابقت کا اصل باعث یہی ہے کہ بُدھ مذہب والوں کی خوش قسمتی سے مسیح ہندوستان میں آیا اور ایک زمانہ دراز تک بُدھ مذہب والوں میں رہا اور اس کے سوانح اور اس کی پاک تعلیم پر انہوں نے خوب اطلاع پائی۔ لہٰذا یہ ضروری امر تھاکہ بہت سا حصہ اس تعلیم اور رسوم کا ان میں جاری ہوجاتا کیونکہ ان کی نگاہ میں مسیح عزت کی نظر سے دیکھا گیا اور بُدھ قرار دیا گیا۔ اس لئے ان لوگوں نے اس کی باتوں کو اپنی کتابوں میں لکھا اور گوتم بُدھ کی طرف نوٹ: جیسا کہ عیسائیوں میں عشاء ربانی ہے ایسا ہی بدھ مذہب والوں میں بھی ہے۔ منہ