اور ؔ اپنے دشمنوں سے پیار کرو اور غربت سے زندگی بسر کرو اور تکبر اور جھوٹ اور لالچ سے پرہیز کرو اور یہی تعلیم بُدھ کی ہے۔ بلکہ اس میں اس سے زیادہ شدّ و مدّ ہے یہاں تک کہ ہر ایک جانور بلکہ کیڑوں مکوڑوں کے خون کو بھی گناہ میں داخل کیا ہے بُدھ کی تعلیم میں بڑی بات یہ بتلائی گئی ہے کہ تمام دنیا کی غم خواری اور ہمدردی کرواور تمام انسانوں اور حیوانوں کی بہتری چاہو اور باہم اتفاق اور محبت پیدا کرو۔ اور یہی تعلیم انجیل کی ہے۔ اور پھر جیسا کہ حضرت مسیح نے مختلف ملکوں کی طرف اپنے شاگردوں کو روانہ کیا اور آپ بھی ایک ملک کی طرف سفر اختیار کیا۔ یہ باتیں بُدھ کے سوانح میں بھی پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ بُدھ ازم مصنفہ سر مونیر ولیم۱؂ میں لکھا ہے کہ بُدھ نے اپنے شاگردوں کو دنیا میں تبلیغ کے لئے بھیجا اور ان کو اس طرح پر خطاب کیا۔ ’’باہر جاؤ اور ہرطرف پھر نکلو اور دنیا کی غمخواری اور دیوتاؤں اور آدمیوں کی بہتری کے لئے ایک ایک ہوکر مختلف صورتوں میں نکل جاؤ اور یہ منادی کرو کہ کامل پرہیز گار بنو۔ پاک دل بنو۔ برہم چاری یعنی تنہا اور مجرد رہنے کی خصلت اختیار کرو‘‘۔ اور کہا کہ ’’میں بھی اس مسئلہ کی منادی کے لئے جاتا ہوں‘‘۔ اور بُدھ بنارس کی طرف گیا اور اس طرف اس نے بہت معجزات دکھائے۔ اور اس نے ایک نہایت مؤثر وعظ ایک پہاڑی پر کیا۔ جیسا کہ مسیح نے پہاڑی پر وعظ کیا تھا۔ اور پھر اسی کتاب میں لکھا ہے کہ بُدھ اکثر مثالوں میں وعظ کیا کرتا تھا اور ظاہری چیزوں کو لے کر روحانی امور کو ان میں پیش کیا کرتا تھا۔ اب غور کرنا چاہئیے کہ یہ اخلاقی تعلیم اور یہ طریق وعظ یعنی مثالوں میں بیان کرنا یہ تمام طرز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے ۔ جب ہم دوسرے قرائن کو اپنی نظر کے سامنے رکھ کر اس طرز تعلیم اور اخلاقی تعلیم کو دیکھتے ہیں تو معاً ہمارے