اس ؔ لئے ضرور تھا کہ وہ نبی صادق بُدھ مذہب کے لوگوں کی طرف توجہ کرتا۔ سو اس وقت بُدھ مذہب کے عالموں کو جو مسیحا بُدھ کے منتظر تھے یہ موقع ملا کہ انہوں نے حضرت مسیح کے خطابات اور ان کی بعض اخلاقی تعلیمیں جیسا کہ یہ کہ ’’اپنے دشمنوں سے پیار کرو اور بدی کا مقابلہ نہ کرو‘‘۔ اور نیز حضرت مسیح کا بگوا یعنی گورا رنگ ہونا جیسا کہ گوتم بُدھ نے پیشگوئی میں بیان کیا تھا یہ سب علامتیں دیکھ کر ان کو بُدھ قرار دے دیا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح کے بعض واقعات اور خطابات اور تعلیمیں اسی زمانہ میں گوتم بُدھ کی طرف بھی عمداً یا سہواً منسوب کر دئیے گئے ہوں کیونکہ ہمیشہ ہندو تاریخ نویسی میں بہت کچے رہے ہیں۔ اور بُدھ کے واقعات حضرت مسیح کے زمانہ تک قلمبند نہیں ہوئے تھے اس لئے بُدھ کے عالموں کو بڑی گنجائش تھی کہ جو کچھ چاہیں بُدھ کی طرف منسوب کردیں سو یہ قرینِ قیاس ہے کہ جب انہوں نے حضرت مسیح کے واقعات اور اخلاقی تعلیم سے اطلاع پائی تو ان امور کو اپنی طرف سے اور کئی باتیں ملا کر بُدھ کی طرف منسوب کردیا ہوگا۔* چنانچہ آگے چل کر ہم اس بات کا ثبوت دیں گے کہ یہ اخلاقی تعلیم کا حصہ جو بُدھ مذہب کی کتابوں میں انجیل کے مطابق پایا جاتا ہے اور یہ خطابات نور وغیرہ جو مسیح کی طرح بُدھ کی نسبت لکھے ہوئے ثابت ہوتے ہیں اور ایسا ہی شیطان کا امتحان یہ سب امور اس وقت بُدھ مذہب کی پُستکوں میں لکھے گئے تھے جبکہ حضرت مسیح اس ملک میں صلیبی تفرقہ کے بعد تشریف لائے تھے۔
اور پھر ایک اور مشابہت بُدھ کی حضرت مسیح سے پائی جاتی ہے کہ بُدھ ازم میں لکھا ہے کہ بُدھ ان ایام میں جو شیطان سے آزمایا گیا روزے رکھتا تھا اور اس نے چالیس روزے رکھے۔ اور انجیل پڑھنے والے جانتے ہیں کہ حضرت مسیح نے بھی چالیس روزے رکھے تھے۔
اور جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے بُدھ اور مسیح کی اخلاقی تعلیم میں اس قدر مشابہت اور مناسبت ہے کہ ہر ایک ایسا شخص تعجب کی نظر سے دیکھے گا جو دونوں تعلیموں پر اطلاع رکھتا ہو گا۔ مثلاً انجیلوں میں لکھا ہے کہ شر کا مقابلہ نہ کرو۔
ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ بدھ مذہب میں قدیم سے ایک بڑا حصہ اخلاقی تعلیم کا موجود ہے مگر ساتھ اس کے ہم یہ بھی کہتے ہیں اس میں سے وہ حصہ جو بعینہٖ انجیل کی تعلیم اور انجیل کی مثالیں اور انجیل کی عبارتیں ہیں یہ حصہ بلاشبہ اس وقت بدھ مذہب کی کتابوں میں ملایا گیا ہے جبکہ حضرت مسیح اس ملک میں پہنچے۔ منہ