ایکؔ کشفی رنگ میں ملاقات تھی۔ جو حضرت مسیح کی آنکھوں تک محدود تھی اور باتیں بھی الہامی رنگ میں تھیں۔ یعنی شیطان نے جیسا کہ اس کا قدیم سے طریق ہے اپنے ارادوں کو وسوسوں کے رنگ میں حضرت مسیح کے دل میں ڈالا تھا۔ مگر ان شیطانی الہامات کو حضرت مسیح کے دل نے قبول نہ کیا بلکہ بُدھ کی طرح ان کو ردّ کیا۔ اب سوچنے کا مقام ہے کہ اس قدر مشابہت بُدھ میں اور حضرت مسیح میں کیوں پیدا ہوئی۔ اس مقام میں آریہ تو کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح نے اس سفر کے وقت جبکہ ہندوستان کی طرف انہوں نے سفر کیا تھا بُدھ مذہب کی باتوں کو سن کر اور بُدھ کے ایسے واقعات پر اطلاع پاکر اور پھر واپس اپنے وطن میں جاکر اسی کے موافق انجیل بنا لی تھی۔ اور بُدھ کے اخلاق میں سے چُرا کر اخلاقی تعلیم لکھی تھی اور جیسا کہ بُدھ نے اپنے تئیں نور کہا اور علم کہا اور دوسرے خطاب اپنے نفس کے لئے مقرر کئے وہی تمام خطاب مسیح نے اپنی طرف منسوب کر دئیے تھے۔ یہاں تک کہ وہ تمام قصہ بُدھ کا جس میں وہ شیطان سے آزمایا گیا اپنا قصہ قرار دے دیا۔ لیکن یہ آریوں کی غلطی اور خیانت ہے یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے پہلے ہندوستان کی طرف آئے تھے اور نہ اس وقت کوئی ضرورت اس سفر کی پیش آئی تھی بلکہ یہ ضرورت اس وقت پیش آئی جب کہ بلاد شام کے یہودیوں نے حضرت مسیح کو قبول نہ کیا اور ان کو اپنے زعم میں صلیب دے دیا جس سے خدائے تعالیٰ کی باریک حکمت عملی نے حضرت مسیح کو بچا لیا۔ تب وہ اس ملک کے یہودیوں کے ساتھ حق تبلیغ اور ہمدردی ختم کرچکے اور بباعث اس بدی کے ان یہودیوں کے دل ایسے سخت ہو گئے کہ وہ اس لائق نہ رہے کہ سچائی کو قبول کریں اس وقت حضرت مسیح نے خدائے تعالیٰ سے یہ اطلاع پاکر کہ یہودیوں کے دس گم شدہ فرقے ہندوستان کی طرف آگئے ہیں ان ملکوں کی طرف قصد کیا۔ اور چونکہ ایک گروہ یہودیوں کا بُدھ مذہب میں داخل ہوچکا تھا