اپنیؔ سولہ لڑکیوں کو بلایا اور اُن کو کہا کہ تم اپنی خوبصورتی بُدھ پر ظاہر کرو لیکن اس سے بھی بُدھ کے دل کو تزلزل نہ ہوا اور شیطان اپنے ارادوں میں نامراد رہا اور شیطان نے اوراور طریقے بھی اختیار کئے مگر بُدھ کے استقلال کے سامنے اس کی کچھ پیش نہ گئی اور بُدھ اعلیٰ سے اعلیٰ مراتب کو طے کرتا گیا اور آخر کار ایک لمبی رات کے بعد یعنی سخت آزمائشوں اور دیرپا امتحانوں کے پیچھے بُدھ نے اپنے دشمن یعنی شیطان کو مغلوب کیا اور سچے علم کی روشنی اس پر کھل گئی اور صبح ہوتے ہی یعنی امتحان سے فراغت پاتے ہی اس کو تمام باتوں کا علم ہوگیا اور جس صبح کو یہ بڑی جنگ ختم ہوئی وہ بُدھ مذہب کی پیدائش کا دن تھا۔ اُس وقت گوتم کی عمر پینتیس برس کی تھی اور اس وقت اس کو بُدھ یعنی نور اور روشنی کا خطاب ملا اور جس درخت کے نیچے وہ اس وقت بیٹھا ہوا تھا وہ درخت نور کے درخت کے نام سے مشہور ہوگیا۔ اب انجیل کھول کر دیکھو کہ یہ شیطان کا امتحان جس سے بُدھ آزمایا گیا کس قدر حضرت مسیح کے امتحان سے مشابہ ہے یہاں تک کہ امتحان کے وقت میں جو حضرت مسیح کی عمر تھی قریباً وہی بُدھ کی عمر تھی اور جیسا کہ بُدھ کی کتابوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شیطان درحقیقت انسان کی طرح مجسم ہوکر لوگوں کے دیکھتے ہوئے بُدھ کے پاس نہیں آیا بلکہ وہ ایک خاص نظارہ تھا جو بُدھ کی آنکھوں تک ہی محدود تھا اور شیطان کی گفتگو شیطانی الہام تھی یعنی شیطان اپنے نظارہ کے ساتھ بُدھ کے دل میں یہ القابھی کرتا تھاکہ یہ طریق چھوڑ دینا چاہئیے اور میرے حکم کی پیروی کرنی چاہئیے میں تجھے دنیا کی تمام دولتیں دے دوں گا۔ اسی طرح عیسائی محقق مانتے ہیں کہ شیطان جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تھا وہ بھی اس طرح نہیں آیا تھا کہ یہودیوں کے سامنے انسان کی طرح ان کی گلیوں کوچوں سے ہوکر اپنی مجسم حالت میں گذرتا ہوا حضرت مسیح کو آملا ہو اور انسانوں کی طرح ایسی گفتگو کی ہو کہ حاضرین نے بھی سنی ہو بلکہ یہ ملاقات بھی