پناہؔ دینے والا ہے۔ ایسا ہی بُدھ کی کتابوں میں بُدھ کانام ہے اَسَرْن سَرْن یعنی بے پناہوں کو پناہ دینے والا۔ اور انجیل میں حضرت مسیح بادشاہ بھی کہلائے ہیں گو آسمان کی بادشاہت مراد لے لی ایسا ہی بُدھ بھی بادشاہ کہلایا ہے۔ اور واقعات کی مشابہت کا یہ ثبوت ہے کہ مثلاً جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام شیطان سے آزمائے گئے اور شیطان نے ان کو کہا کہ اگر تو مجھے سجدہ کرے تو تمام دنیا کی دولتیں اور بادشاہتیں تیرے لئے ہوں گی۔ یہی آزمائش بُدھ کی بھی کی گئی اور شیطان نے اس کو کہا کہ اگر تو میرایہ حکم مان لے کہ ان فقیری کے کاموں سے باز آجائے اور گھر کی طرف چلا جائے تو میں تجھ کو بادشاہت کی شان و شوکت عطا کروں گالیکن جیسا کہ مسیح نے شیطان کی اطاعت نہ کی ایسا ہی لکھا ہے کہ بُدھ نے بھی نہ کی۔ دیکھو کتاب ٹی ڈبلیو رائس ڈیوڈس۱؂ بُدھ ازم۔ اور کتاب مونیر ولیمس بُدھ از۲؂م۔ خ اب اس سے ظاہر ہے کہ جو کچھ حضرت مسیح علیہ السلام انجیل میں کئی قسم کے خطاب اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔ یہی خطاب بُدھ کی کتابوں میں جو اس سے بہت عرصہ پیچھے لکھی گئی ہیں بُدھ کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔ اور جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام شیطان سے آزمائے گئے ایسا ہی ان کتابوں میں بُدھ کی نسبت دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ بھی شیطان سے آزمایا گیا بلکہ ان کتابوں میں اس سے زیادہ بُدھ کی آزمائش کا ذکر ہے اور لکھا ہے کہ جب شیطان بُدھ کو دولت اور بادشاہت کی طمع دے چکا تب بُدھ کو خیال پیدا ہوا کہ کیوں اپنے گھر کی طرف واپس نہ جائے۔ لیکن اس نے اس خیال کی پیروی نہ کی اور پھر ایک خاص رات میں وہی شیطان اس کو پھر ملا اور اپنی تمام ذرّیات ساتھ لایا اور ہیبت ناک صورتیں بنا کر اس کو ڈرایا اور بُدھ کو وہ شیاطین سانپوں کی طرح نظر آئے جن کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے اور ان سانپوں نے زہر اور آگ اس کی طرف پھینکنی شروع کی لیکن زہر پھول بن جاتے تھے اور آگ بُدھ کے گرد ایک ہالہ بنا لیتی تھی۔ پھر جب اس طرح پر کامیابی نہ ہوئی تو شیطان نے خنیز دیکھو۔ چائنیز ۳؂ بدھ ازم مصنفہ اڈکنس+ ُ بدھ ۴؂ مصنّفہ اولڈن برگ ترجمہ ڈبلیو ہوئی، لائف۵؂ آف بدھ۔ ترجمہ راک ہل۔ منہ