اس ؔ قدر اسلامی تواریخ سے ثابت ہے کہ اگر ان تمام کتابوں میں سے نقل کیا جائے تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ مضمون اپنے طول کی وجہ سے ایک ضخیم کتاب ہو سکتی ہے۔ اس لئے اسی پر کفایت کی جاتی ہے۔
دوسری فصل
(اُن تاریخی کتابوں کی شہادت میں جو بُدھ مذہب کی کتابیں ہیں۔)
واضح ہو کہ بُدھ مذہب کی کتابوں میں سے انواع اقسام کی شہادتیں ہم کو دستیاب ہوئی ہیں جن کو یکجائی نظر کے ساتھ دیکھنے سے قطعی اور یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور اس ملک پنجاب و کشمیر وغیرہ میں آئے تھے۔ اُن شہادتوں کو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں تا ہر ایک منصف ان کو اول غور سے پڑھے اور پھر ان کو اپنے دل میں ایک مسلسل صورت میں ترتیب دے کر خود ہی نتیجہ مذکورہ بالا تک پہنچ جائے۔ اور وہ یہ ہیں۔اول وہ خطاب جو بُدھ کو دئیے گئے مسیح کے خطابوں سے مشابہ ہیں اور ایسا ہی وہ واقعات جو بُدھ کو پیش آئے مسیح کی زندگی کے واقعات سے ملتے ہیں۔ مگر بُدھ مذہب سے مراد ان مقامات کا مذہب ہے جو تبت کی حدود یعنی لیہ اور لاسہ اور گلگت اور ہمس وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ جن کی نسبت ثابت ہوا ہے کہ حضرت مسیح ان مقامات میں گئے تھے۔ خطابوں کی مشابہت میں یہ ثبوت کافی ہے کہ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی تعلیموں میں اپنا نام نور رکھا ہے ایسا ہی گوتم کا نام بُدھ رکھا گیا ہے جو سنسکرت میں نور کے معنوں پر آتا ہے اور انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام استاد بھی ہے ایسا ہی بُدھ کا نام ساستا یعنی استاد ہے۔ ایسا ہی حضرت مسیح کا نام انجیل میں مبارک رکھا گیا ہے۔ اسی طرح بُدھ کا نام بھی سُگت ہے یعنی مبارک ہے۔ ایسا ہی حضرت مسیح کا نام شاہزادہ رکھا گیا ہے اور بُدھ کا نام بھی شاہزادہ ہے۔ اور ایک نام مسیح کا انجیل میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آنے کے مدعا کو پورا کرنے والا ہے۔ ایسا ہی بُدھ کا نام بھی بُدھ کی کتابوں میں سدارتھا رکھا گیا ہے یعنی اپنے آنے کا مدعا پورا کرنے والا۔ اور انجیل میں حضرت مسیح کا ایک نام یہ بھی ہے کہ وہ تھکوں ماندوں کو