اورؔ پنجاب میں گذر کر کشمیر اور تبت تک ہوئی۔ اس لمبے سفر کی وجہ سے آپ کا نام نبی سیاح بلکہ سیاحوں کا سردار رکھا گیا۔ چنانچہ ایک اسلامی فاضل امام عالم علّامہ یعنی عارف باللہ ابی بکر محمد بن محمد ابن الولید الفہری الطرطوشی المالکی جو اپنی عظمت اور فضیلت میں شہرۂ آفاق ہیں اپنی کتاب سراج الملوک میں جو مطبع خیریہ مصر میں ۱۳۰۶ھ میں چھپی ہے یہ عبارت حضرت مسیح کے حق میں لکھتے ہیں جو صفحہ ۶ میں درج ہے۔ ’’این عیسٰی روح اللّٰہ و کلمتہ رأس الزاھدین و امام السائحین‘‘ یعنی کہاں ہے عیسیٰ روح اللہ و کلمۃ اللہ جو زاہدوں کا سردار اور سیاحوں کا امام تھا یعنی وہ وفات پاگیا اور ایسے ایسے انسان بھی دنیا میں نہ رہے ۔دیکھو اس جگہ اس فاضل نے حضرت عیسیٰ کو نہ صرف سیاح بلکہ سیاحوں کا امام لکھا ہے۔ ایسا ہی لسان العرب کے صفحہ ۴۳۱ میں لکھا ہے۔ ’’قیل سُمِّيَ عیسٰی بمسیح لانَّہٗ کان سائحًا فی الارض لا یستقرّ‘‘۔ یعنی عیسیٰ کا نام مسیح اس لئے رکھا گیا کہ وہ زمین میں سیر کرتا رہتا تھا اور کہیں اور کسی جگہ اس کو قرار نہ تھا۔ یہی مضمون تاج العروس شرح قاموس میں بھی ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح وہ ہوتا ہے جو خیر اور برکت کے ساتھ مسح کیا گیا ہو یعنی اس کی فطرت کو خیر و برکت دی گئی ہو۔ یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی خیر وبرکت کو پیدا کرتا ہو اور یہ نام حضرت عیسیٰ کو دیا گیا اور جس کو چاہتا ہے اللہ تعالیٰ یہ نام دیتا ہے۔ اور اس کے مقابل پر ایک وہ بھی مسیح ہے جو شر اور *** کے ساتھ مسح کیا گیا یعنی اس کی فطرت شر اور *** پر پیدا کی گئی یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی شر اور *** اور ضلالت پیدا کرتا ہے اور یہ نام مسیح دجال کو دیا گیا اور نیز ہر ایک کو جو اس کا ہم طبع ہو اور یہ دونوں نام یعنی مسیح سیاحت کرنے والا اور مسیح برکت دیا گیا یہ باہم ضد نہیں ہیں اور پہلے معنی دوسرے کو باطل نہیں کرسکتے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی یہ بھی عادت ہے کہ ایک نام کسی کو عطا کرتا ہے اور کئی معنی اس سے مراد ہوتے ہیں اور سب اس پر صادق آتے ہیں۔ اب خلاصہ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سیاح ہونا