کہ تمام نبی فوت ہوچکے ہیں اور نیز اگر یہ استدلال صریح اور قطعیۃ الدلالت نہیں تھا
تووہ صحابہ جو بقول آپ کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے محض ظنی اور شکی امر پر کیونکر قائل ہوگئے اور کیوں یہ حجت پیش نہ کی کہ یا حضرت یہ آپ کی دلیل ناتمام ہے اور کوئی نصّ قطعیۃ الدلالت آپ کے ہاتھ میں نہیں ۔ کیا آپ اب تک اِس سے بے خبر ہیں کہ قرآن ہی آیت رافعک الیّمیں حضرت مسیح کا بجسمہ العنصری آسمان پر جانا بیان فرماتا ہے۔ کیا بل رفعہ اللّٰہ الیہ بھی آپ نے نہیں سنا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمان پر جانا آپ کے نزدیک کیوں مستبعد ہے بلکہ صحابہ نے جو مذاق قرآن سے واقف تھے آیت کو سن کر اور لفظ خلت کی تشریح فقرہ أفأن مات أوقتل میں پاکر فی الفور اپنے پہلے خیال کو چھوڑ دیا ہاں اُن کے دل آنحضرت کی موت کی وجہ سے سخت غمناک اور چور ہوگئے اور اُن کی جان گھٹ گئی اور حضرت عمر نے فرمایا کہ اس آیت کے سننے کے بعد میری یہ حالت ہوگئی ہے کہ میرے جسم کو میرے پیر اُٹھا نہیں سکتے اور میں زمین پر گرا جاتا ہوں۔ سبحان اللہ کیسے سعید اور وقّاف عندالقرآن تھے کہ جب آیت میں غور کرکے سمجھ آگیا کہ تمام گذشتہ نبی فوت ہوچکے ہیں تب بجز اس کے کہ رونا شروع کردیا اور غم سے بھر گئے اور کچھ نہ کہا اور تب حضرت حسّان بن ثابت نے یہ مرثیہ کہا
کنتَ السواد لناظری فعمی علیک الناظر
من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذرُ
یعنی تو میری آنکھ کی پتلی تھا پس میری آنکھیں تو تیرے مرنے سے اندھی ہوگئیں اب تیرے بعد میں کسی کی زندگی کو کیاکروں۔ عیسیٰ مرے یاموسیٰ مرے بیشک مرجائیں مجھے تو تیرا ہی غم تھا۔ یاد رہے کہ اگر حضرت ابوبکر کی نظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام