خدا ہی میں یہ صفت ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ ہے اور باقی تمام نوع انسان و حیوان پہلے اس سے مر جاتے ہیں کہ اُن کی نسبت خلود کا گمان ہو۔ اور پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت پڑھی جس کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد (صلی ؔ اللہ علیہ وسلم) رسول ہیں اور سب رسول دُنیا سے گذر گئے کیا اگر وہ فوت ہوگئے یا قتل کئے گئے تو تم مرتد ہو جاؤگے تب لوگوں نے اس آیت کو سن کر اپنے خیالات سے رجوع کرلیا۔ اب سوچو کہ حضرت ابوبکر کا اگر قرآن سے یہ استدلال نہیں تھا
مضر نہیں بلکہ اُن کی مؤید ٹھہرتی ہے۔ لیکن اس آیت کا اگلا فقرہ جو بطور تشریح ہے یعنی 3 ۱ جس پر حضرت ابوبکر کی نظر جاپڑی ظاہر کر رہا ہے کہ اس آیت کے یہ معنے لینا کہ تمام نبی گذر گئے گو مرکر گذر گئے یا زندہ ہی گذر گئے یہ دجل اور تحریف اورخدا کی منشاء کے برخلاف ایک عظیم افترا ہے۔ اور ایسے افترا عمداً کرنے والے جو عدالت کے دن سے نہیں ڈرتے اور خدا کی اپنی تشریح کے برخلاف اُلٹے معنے کرتے ہیں وہ بلا شبہ ابدی *** کے نیچے ہیں۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اُس وقت تک اِس آیت کا علم نہیں تھا او ردوسرے بعض صحابہ بھی اسی غلط خیال میں مبتلا تھے اور اُس سہوو نسیان میں گرفتار تھے جو مقتضائے بشریت ہے اور اُن کے دل میں تھا کہ بعض نبی اب تک زندہ ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے۔ پھر کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی مانند نہ ہوں۔ لیکن حضرت ابوبکر نے تمام آیت پڑھ کر اور 3 ۱ سنا کر دلوں میں بٹھا دیا کہ خلت کے معنے دو قسم میں ہی محصور ہیں (۱) حتف انف سے مرنا یعنی طبعی موت ۔(۲) مارے جانا۔ تب مخالفوں نے اپنی غلطی کا اقرار کیا اور تمام صحابہ اِس کلمہ پر متفق ہوگئے کہ گذشتہ نبی سب مرگئے ہیں اور فقرہ 3 ۱ کا بڑا ہی اثر پڑا اور سب نے اپنے مخالفانہ خیالات سے رجوع کرلیا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ منہ