موت سے باہر ہوتے تو وہ ہرگز اس آیتؔ کو بطور استدلال پیش نہ کرتے اور اگر صحابہ کو اس آیت کے ان معنوں میں جو تمام نبی فوت ہوچکے ہیں کچھ تردّد ہوتا تو وہ ضرور عرض کرتے کہ جس حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلے گئے ہیں تو پھر یہ دلیل ناتمام ہے اور کیا وجہ کہ عیسیٰ کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ آسمان پر نہ گئے ہوں۔ لیکن اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کی موت کا بھی اُسی دن فیصلہ ہوا اور صحابہ نے اس آیت کو سن کر بعد اس کے کبھی دم نہیں مارا کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں۔ اور چونکہ صحیح بخاری کے لفظ کُلّہمسے ثابت ہوگیا کہ اُس وقت سب صحابہ موجود تھے اور کسی نے اِس آیت کے سننے کے بعد مخالفت نہ کی اس لئے ماننا پڑا کہ اُن سب کا تمام گذشتہ انبیاء کی موت پر اجماع ہوگیا اور یہ پہلا اجماع تھا جوصحابہ میں ہوا۔ اور خلافت ابوبکر کے اجماع سے جو بعداس کے ہوا یہ اجماع بہت بڑھ کر تھا کیونکہ اس میں کسی نے دم نہیں مارااور خلافت ابوبکر میں ابتدا میں اختلاف ہوگیا تھا۔ ہاں اِس جگہ یہ خیال گذرتا ہے کہ اِس آیت کے سننے سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ مذہب تھا کہ باوجود مر جانے کے وہ بھی دنیا میں واپس آئیں گے کیونکہ انہوں نے ان کا رفع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع ایک ہی طور کا قرار دیا اور جبکہ وہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم تو حضرت عایشہ کے گھر میں ہی اب تک پڑا ہے تو وہ باوجود اقرار مشابہت کے کس طرح اِس بات کے قائل ہوسکتے تھے کہ حضرت مسیح کا جسم آسمان پر چلا گیا لیکن آیت کو سن کر یہ خیال بھی انہوں نے چھوڑ دیا اور اس روز تمام صحابہ اس بات پر ایمان لائے کہ اس سے پہلے سب نبی فوت ہوچکے ہیں اور درحقیقت بڑی بے ادبی تھی اور سخت گناہ تھا کہ نبی خاتم الرسل