مات فقتلتہ بسیفی ھٰذا۔ وانما رُفع الی السماء کمارُفع عیسی ابن مریم علیہ السلام وقال ابوبکر بن قحافۃ من کان یعبد محمدًا فان محمدًا قدمات ومن کان یعبد اِلٰہ محمدٍ فانہ حیّ لا یموت وقرء ھذہ الاٰیۃ 333 3 ۱ فرجع القوم الی قولہ۔ دیکھو ملل نحل جلد ثالث ۔ ترجمہ یہ ہے کہ عمر خطاب کہتے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے تو میں اپنی اِسی تلوار سے اُس کو قتل کر دوں گابلکہ وہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں جیسا کہ عیسیٰ بن مریم اُٹھائے* گئے اور ابوؔ بکر نے کہا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے تو وہ تو ضرور فوت ہوگئے ہیں اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خد ا کی عبادت کرتا ہے تو وہ زندہ ہے نہیں مرے گا یعنی ایک
* حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ جو شخص حضرت سیّدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت
یہ کلمہ منہ پر لائے گا کہ وہ مرگئے ہیں تو میں اس کو اپنی اسی تلوار سے اس کو قتل کر دوں گا۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کو اپنے کسی خیال کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر بہت غلو ہوگیا تھا اوروہ اس کلمہ کو جو آنحضرت مرگئے کلمہ کفر اورارتداد سمجھتے تھے۔ خدا تعالیٰ ہزارہا نیک اجر حضرت ابوبکر کو بخشے کہ جلد تر اُنہوں نے اس فتنہ کو فروکردیا اور نص صریح کو پیش کرکے بتلا دیا کہ گذشتہ تمام نبی مرگئے ہیں اور جیسا کہ انہوں نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ کو قتل کیا درحقیقت اس تصریح سے بھی بہت سے فیج اعوج کے کذّابوں کو تمام صحابہ کے اجتماع سے قتل کردیا گویا چار کذاب نہیں بلکہ پانچ کذّاب مارے۔ یا الٰہی ان کی جان پر کروڑہا رحمتیں نازل کر آمین۔ اگر اِس جگہ خلت کے یہ معنے کئے جائیں کہ بعض نبی زندہ آسمان پر جا بیٹھے ہیں تب تو اِس صورت میں ؔ حضرت عمر حق بجانب ٹھہرتے ہیں اور یہ آیت ان کو