ابوبکر نے الشاکرین تک یہ آیت پڑھ کر سنائی* کہا راوی نے پس بخدا گو یا لوگ اس سے بے خبر تھے کہ یہ آیت بھی خدا نے نازل کی ہے اور ابوبکر کے پڑھنے سے اُن کو پتہ لگا ۔ پس اس آیت کو تمام صحابہ نے ابوبکر سے سیکھ لیا اور کوئی بھی صحابی یا غیر صحابی باقی نہ رہاجو اِس آیت کو پڑھتا نہ تھا اور عمر نے کہا کہ بخدا میں نے یہ آیت ابوبکر سے ہی سنی جب اُس نے پڑھی پس میں اُس کے سننے سے ایسابے حواس اور زخمی ہوگیا ہوں کہ میرے پیر مجھے اُٹھا نہیں سکتے اور میں اُس وقت سے زمین پر گراجاتا ہوں جب سے کہ میں نے یہ آیت پڑھتے سنا اور یہ کلمہ کہتے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے۔ اور اس جگہ قسطلانی شرح بخاری کی یہ عبارت ہے۔ وعمر بن الخطاب یکلّم النّاس یقول لہم مامات رسُول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم ۔۔۔ ولا یموت حتّی یقتل المنافقین۔ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ ؔ لوگوں سے باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور جب تک منافقوں کو قتل نہ کرلیں فوت نہیں ہوں گے اور ملل و نحل شہر ستانی خ میں اس قصّہ کے متعلق یہ عبارت ہے ۔ قال عمر بن الخطاب من قال ان محمدا * اس آیت کا اگلا فقرہ یعنی افان مات اوقتل صاف بتلا رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک گذر جانا صرف دو قسم پر ہے یا بذریعہ موت حتف انف اور یا بذریعہ قتل اور خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ گذر جانا اِس طرح بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلا جائے۔ پس جبکہ خدا تعالیٰ نے گذر جانے کی تشریح لفظ افان مات اوقتلسے آپ کردی اور اس پر حصر کردیا تو اس کے بعد نہ ماننا کسی صالح مومن کاکام نہیں ۔ منہ خ الملل لابی الفتح الامام محمد بن عبد الکریم الشھرستانی المتوفّی ۵۴۸ ھ قال التاج السبکی فی طبقاتہٖ کتاب الملل والنحلِ للشھرالستانی ھوعندی خیر کتاب فی ھٰذاالباب صفحہ۹۔ منہ