اور نصوص صریحہ کو چھوڑتا ہے۔ واضح ہو کہ اِس بارے میں صحیح بخاری میں جو اصحّ الکتب کہلاتی ہے مندرجہ ذیل عبارتیں ہیں۔ عن عبد اللّٰہ بن عباس ان ابابکر خرج وعمریکلم النّاس فقال اجلس یا عمر فابٰی عمر ان یجلس فاقبل الناس الیہ وترکوا عمر فقال ابوبکراما بعد من منکم یعبد محمدًا فان محمدًا قد مات ومن کان منکم یعبد اللّٰہ فان اللّٰہ حیٌّ لایموت قال اللّٰہ3333 ۱؂۔ الی الشاکرین۔ وقال واللّٰہ کانّ الناس لم یعلموا ان اللّٰہ انزل ھذہ الاٰیۃ حتّی تلاھا ابوبکر فتلقاھا منہ الناس کُلّھم فما اسمع بشرا من الناس الّایتلوھا۔۔۔ ان عمرًا قال واللّٰہ ماھو الّا ان سمعتُ ابابکر تلاھا فعقرت حتّی ما یقلنی رجلا ي وحتّی اھویت الی الارض حتّی سمعتہ تلاھا انّ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قد مات ۔ یعنی ابن عباس سے روایت ہے کہ ابوبکر نکلا (یعنی بروز وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) اور عمر لوگوں سے کچھ باتیں کر رہا تھا (یعنی کہہ رہا تھا کہ آنحضرت فوت نہیں ہوئے بلکہ زند ہ ہیں) پس ابوبکرنے کہا کہ اے عمر بیٹھ جا مگر عمر نے بیٹھنے سے انکار کیا۔ پس لوگ ابوبکر کی طرف متوجہ ہوگئے اور عمر کو چھوڑ دیا پس ابوبکر نے کہا کہ بعد حمد و صلوٰۃ واضح ہو کہ ؔ جو شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا ہے اس کو معلوم ہو کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) فوت ہوگیا اور جو شخص تم میں سے خدا کی پرستش کرتا ہے تو خدا زندہ ہے جو نہیں مرے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر دلیل یہ ہے کہ خدا نے فرمایا ہے کہ محمد صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے تمام رسول اس دنیا سے گذر چکے ہیں یعنی مرچکے ہیں اور حضرت