دنیا سے گذر چکے ہیں یعنی مرچکے ہیں۔ پس ایسا ہی اگر یہ بھی مرکر یا قتل ہوکر دنیا سے گذر گیا تو کیا تم دین سے پھر جاؤگے تو اس آیت کے سننے کے بعد کسی ایک صحابی نے بھی مخالفت نہیں کی اور اُٹھ کر یہ عرض نہیں کی کہ یہ آپ کا استدلال ناقص او ر ناتمام ہے۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ بعض نبی زندہ بجسم عنصری زمین پر موجود ہیں جیسے الیاس و خضر اور بعض آسمان پر جیسے ادریس اور عیسیٰ تو پھر اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت موت کیونکر ثابت ہو اور کیوں جائز نہیں کہ وہ بھی زندہ ہوں بلکہ تمام صحابہ نے اس آیت کو سن کر تصدیق کی اور سب کے سب اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ تمام نبیوں کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی مرنا ضروری تھا پس یہ اجماع بلا توقف اور تردّ د واقع ہوا لیکن وہ اجماع جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر مانا جاتا ہے اِس میں بعض صحابہ کی طرف سے بیعت کرنے میں کچھ توقف اور تردّد بھی ہو ا تھا گو کچھ دنوں کے بعد بیعت کرلی اور اس ابتلا میں خود حضرت علی رضی اللہ ؔ عنہ بھی مبتلا ہوگئے تھے لیکن گذشتہ انبیاء کی موت پر کسی صحابی کو بعد سننے صدیقی خطبہ کے کوئی ابتلا پیش نہیں آیا اور نہ ماننے میں کچھ بھی توقف اور تردّد کیا بلکہ سنتے ہی مان گئے ۔ لہٰذا اسلام میں یہ وہ پہلا اجماع ہے جو بلا توقف انشراح صدر کے ساتھ ہوا ۔خلاصہ کلام یہ کہ بے شک نصوص صریحہ کے رُو سے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا تمام گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی موت پر جس میں حضرت مسیح بھی داخل ہیں اجماع ہوگیا تھا بلکہ حضرت مسیح اس اجماع کا پہلا نشانہ تھے۔ اب ذیل میں نصوص حدیثیہ کے رُو سے ثبوت لکھتا ہوں تا معلوم ہوکہ ہم دونوں میں سے کون شخص خدا تعالیٰ سے خوف کرکے سچ پر قائم ہے اور کون شخص دلیری سے جھوٹ بولتا