پہلے نبی دنیا سے گذر گئے اور مرگئے۔ اور الف لام سے اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی ان میں سے موت سے خالی نہیں رہا۔ ایسا ہیتفسیر تبصیر الرحمان و تیسیر المنان للشیخ العلامہ زین الدین علی المہائمی۔ زیر آیت قد خلت لکھا ہے قد خلت۔ منہم من مات ومنہم من قتل فلا منافات بین الرسالۃ والقتل والموت۔ دیکھو صفحہ ۱۷۷۔ جلد ؔ پہلی۔ تبصیر الرحمان۔ یعنی گذشتہ انبیاء دنیا سے اس طرح گذر گئے کہ کوئی مرگیا اور کوئی قتل کیا گیا۔ پس نبوت اور موت اور قتل میں کچھ منافات نہیں۔ ایسا ہی تفسیر جامع البیان للشیخ العلامہ سیّد معین الدین ابن شیخ سید صفی الدین صفحہ ۲۱ میں زیر آیت قد خلت من قبلہ الرسل لکھا ہے۔ قد خلت من قبلہ الرسل بالموت اوالقتل فیخلو محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایضًا یعنی تمام نبی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھے موت کے ساتھ یا قتل کے ساتھ دنیا سے گذر گئے ۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا سے گذر جائیں گے۔ ایسا ہی حاشیہ غایۃ القاضی وکفایۃ الراضی علیٰ تفسیر البیضاویجلد۳ صفحہ ۶۸ مقام مذکور کے متعلق یہ لکھا ہے۔لیس( رسولنا صلی اللّٰہ علیہ وسلم) متبرءً عن الھلاک کسائر الرسل ویخلو کما خلوا۔ یعنی ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم موت سے مستثنیٰ نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ پہلے اُن سے تمام پیغمبر مرچکے ہیں وہ بھی مریں گے۔ اور جیسا کہ وہ اِس دنیا سے گذر گئے وہ بھی گذر جائیں گے۔ ایسا ہی تفسیر جمل میں جس کادوسرا نام فتوحات الٰہیہ ہے یعنی جلد ایک صفحہ۳۳۶ میں زیر تفسیر آیت وما محمد۔ قد خلت یہ لکھا ہے۔ کانہم اعتقدواانہ لیس کسائر الرسل فی انہ یموت کما ماتوا۔ یعنی بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو گویا یہ گمان ہوا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے نبیوں کی طرح نہیں مریں گے بلکہ زندہ رہیں گے سو