قَبلہِ الرُّسل موجود ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیغمبر گذرے۔
اقول۔ کیا گذرنا بجز مرنے کے کوئی اور چیز بھی ہے ۔جو شخص دنیا سے گذر گیا اُسی کو تو کہتے ہیں کہ مرگیا۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں ۔
پدر چوںؔ دور عمرش منقضی گشت
مرا ایں یک نصیحت داد و بگذشت
اب بتلاؤ کہ بگذشت کے اس جگہ کیا معنے ہیں کیا یہ کہ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کا باپ زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلا گیا تھا یا یہ کہ مرگیا تھا۔ اے عزیز کیا ان تاویلات رکیکہ سے ثابت ہوجائے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے۔ تما م دنیا کا یہ محاورہ ہے کہ جب مثلاً کہا جائے کہ فلاں بیمار گذر گیا تو کوئی بھی یہ معنے نہیں کرتا کہ وہ آسمان پر مع جسم عنصری چڑھ گیا اور عربی میں بھی گذرنا بمعنی مرنا ایک قدیم محاورہ ہے چنانچہ ایک فاضل کی نسبت جو کسی کتاب کو تالیف کرنا چاہتا تھا اور قبل از تالیف مرگیا کسی کا یہ ُ پرانا شعر ہے
ولم یتفق حتّی مضی بسبیلہ وکم حسرات فی بطون المقابر
یعنی اس فاضل کو اس کتاب کا تالیف کرنا اتفاق نہ ہوا یہاں تک کہ گذر گیا اور قبروں کے پیٹ میں بہت سی حسرتیں ہیں یعنی اکثر لوگ قبل اس کے جو اپنے ارادے پورے کریں مر جاتے ہیں اور حسرتوں کو قبروں میں ساتھ لے جاتے ہیں۔ اب دیکھو کہ اس جگہ بھی گذرنا بمعنی مرنے کے ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ کس تفسیر والے نے یہ معنے لکھے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ ہرایک محقق مفسر جو عقل اور بصیرت اور علم بصیرت سے حصہ رکھتا ہے یہی معنے لکھتا ہے۔ دیکھو تفسیر مظہری صفحہ ۴۸۵ زیر آیت قد خلت من قبلہ الرسل یعنی مضت و ماتت من قبلہ الرسل یعنی