فرمایا کہ وہ بھی مرے گا جیسا کہ پہلے تمام نبی مرگئے۔ ایسا ہی تفسیر صافی زیر آیت مذکورہ جلد اوّل میں لکھا ہے۔ فسیخلوا کما خلوا بالموت اوالقتل یعنی حضرت سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا سے ایسا ہی گذر جائے گا جیسا کہ دوسرے نبی موت یا قتل کے ساتھ دنیا سے گذر گئے۔ اب ظاہر ہے کہ ان تمام تفسیر والوں نے لفظ خلت کے معنے ماتت ہی کیا ہے یعنی اِس آیت کے یہی معنے کئے ہیں کہ جیسے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام فوت ہوگئے ہیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پائیں ؔ گے ۔ اب دیکھو کہ حضرت مسیح کی موت پر یہ کس قدر روشن ثبوت ہے جو تمام تفسیروں والے یک زبان ہوکر بول رہے ہیں کہ پہلے جس قدر دنیا میں نبی آئے سب فوت ہوچکے ہیں۔ ماسوا اِس کے ہر ایک ایماندار کا یہ فرض ہے کہ اِس مقام میں جن معنوں کی طرف خود اللہ جلّ شانہٗ نے اشارہ فرمایا ہے اُنہی معنوں کو درست سمجھے اور اس کے مخالف معنوں کو زَیغ اور الحادیقین کرے۔ اور یہ بات نہایت بدیہی او راظہر من الشمس ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ نے آیت 3 ۱ کی تفسیر میں آپ ہی فرما دیا ہے 3 ۱ پس اِس ساری آیت کے یہ معنے ہوئے کہ پہلے تمام نبی اس دنیا سے موت یا قتل سے گذر چکے ہیں۔ سو اگر یہ نبی بھی اُنہی کی طرح موت یا قتل سے گذر جائے توکیا تم دین سے پھر جاؤگے۔ اِس جگہ یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اِس مقام میں خدا تعالیٰ نے دنیا سے گذر جانے کے دو ہی طورپر معنے قراردیئے ہیں ایک یہ کہ بذریعہ موت حتف انف یعنی طبعی موت کے انسان مرجائے اور دوسرے یہ کہ مارا جائے یعنی قتل کیاجائے ۔ غرض خدا تعالیٰ نے خلت کے لفظ کو موت یا قتل میں محصور کردیا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اگر کوئی تیسرا شق بھی خدا تعالیٰ کے علم میں ہوتا تو خلت کے