یعنی وہ مرفوع متصل ہو یہ اور جہالت ہے کیا جو منقطع حدیث ہو اور مرفوع متصل نہ ہو وہ حدیث نہیں کہلاتی ۔شیعہ مذؔ ہب کے امام اور محدث کسی حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچاتے تو کیا اُن اخبار کا نام احادیث نہیں رکھتے اور خود سُنیوں کے محدثوں نے بعض اخبار کو موضوع کہہ کرپھر بھی اُن کا نام حدیث رکھا ہے اور حدیث کو کئی قسموں پر منقسم کرکے سب کا نام حدیث ہی رکھ دیا ہے۔ افسوس کہ تم لوگوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ اُن باتوں کا نام بھی جھوٹ رکھتے ہو جس طرز کو قرآن شریف نے اختیار کیاہے اور محض شرارت سے خدا کی پاک کلام پر حملہ کرتے ہو۔ ظاہر ہے کہ اگر مثلاً کوئی یہ کہے کہ میں نے پلاؤ کی ساری رکابی کھالی تو اُس کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے جھوٹ بولا ہے۔ اور جھوٹ یہ کہ اُس نے چاول کھائے ہیں رکابی کو توڑ کرتو نہیں کھایا۔ اور جبکہ نصوص حدیثیہ کااستدلال کلّیت کا فائدہ بخشتا ہے تو یہ کہنا کہ حدیث کے رُو سے لمّا توفّیتنی کے معنے لمّا اَمتّنیہیں یعنی اِس بنا پر کہ متوفّیک مُمِیتکآچکا ہے اس میں کون سا کذب اور دروغ ہے لیکن ایسے جاہل کو کون سمجھائے جو اپنی جہالت کے ساتھ تعصب کی زہر بھی مخلوط رکھتا ہے۔ مگر غنیمت ہے کہ جیسا کہ یہ لوگ تین جھوٹ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں ایسا ہی تین جھوٹ میری طرف بھی منسوب کئے۔ ہم اِس ابراہیمی مشابہت پر فخر کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کے جھوٹ اور افترا کو ان کے مُنہ پر مارتے ہیں۔
قولہ۔دوسرا جھوٹ اسی صفحہ سطر ۲۳ و۲۴ میں لکھا ہے۔ قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی نبی ایسانہیں گذرا جو فوت نہیں ہوگیا یہ بھی سراسر جھوٹ ہے قرآن شریف میں فقط خَلَتْ مِنْ