اسی طرح جب ہم نے دیکھا کہ اس محل میں تمام احادیث کامقصود مشترک یہ ہے کہ توفیتنی کے معنے ہیں اَمتّنیتو بصحت نیت اس کا ذِکر کردیا۔ اس طرز کے بیان کو جھوٹ سے کیا مناسبت اور جھوٹ کو اس سے کیانسبت ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ امام بخاری کامُدعا اس فقرہ متوفّیک ممیتک سے یہ ثابت کرنا ہے کہ لمّا توفّیتنی کے معنے ہیں اَمتّنیاور اسی لئے وہ دو مختلف محل کی دو آیتیں ایک جگہ ذکر کرکے اور ایک دوسرے کو بطور تظاہر قوت دے کر دکھلاتا ہے کہ ابن عباس کا یہ منشاء تھا کہ لمّا توفّیتنی کے معنی ہیں اَمتّنی۔ اس لئے ہم نے بھی بطور تاویل اور مآل کے یہ کہہ دیا کہ حدیثوں کے رُو سے لمّا توفّیتنی کے معنے اَمتّنیہے* بھلااگر یہ صحیح نہیں ہے تو تُو ہی بتلا کہ جبکہ متوفّیک کے معنے ممیتک ہوئے تو اس قول ابن عباس کے رُو سے لمّا توفّیتنی کے کیا معنے ہوئے ؟ کیا ہمیں ضرور نہیں کہ ہم لمّا توفّیتنیکے معنے ایسی حدیث کی رُو سے کریں جیسی کہ حدیث کے رُو سے متوفّیک کے معنے کئے گئے ہیں۔ اگر ہم اِس بات کے مجاز ہیں کہ ایک ہی محل کی دو آیتوں کی تفسیر میں ایک آیت کی تفسیر کو بطور حجت پیش کردیں تو اِس میں کیا جھوٹ ہوا کہ ہم نے لکھ دیا کہ حدیث کے رُو سے لمّا توفّیتنی کے معنے لمّا اَمتّنی ہیں۔ جبکہ توفی کے ایک صیغہ میں حدیث کی رُو سے یہ مستفاد ہوچکا کہ اس کے معنے وفات دینا ہے تو وُہی استدلال دُوسرے صیغہ میں بھی جاری کرنا کیوں حدیثی استدلال سے باہر سمجھا جاتا ہے اور یہ کہناکہ ہم اُسی قول کو حدیث کہیں گے جس کااسناد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو
* اِس طور کے قول قرآن شریف میں صدہا پائے جاتے ہیں کہ متکلم کے تو اور الفاظ اور اور اور
پیرایہ تھا مگر خدا تعالیٰ نے الگ پیرایہ میں بیان فرمایا اور پھر کہا کہ یہ اُسی کاقول ہے افسوس کہ میرے بخل کے لئے یہ لوگ اب قرآن شریف پر بھی اعتراض کرنے لگے۔ اب تو خطرناک علامتیں ظاہر ہوگئیں خدا اپنا فضل کرے ۔ آمین۔ منہ