ابراہیم کے دو بیٹے تھے اسمٰعیل و اسحاق کیونکہ ظاہر واقعات بغیر تاویل کے یہی ہیں۔ دوسری قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے قرآن شریف میں کفّار یا گذشتہ مومنوں کے کلمات کچھ تصرف کرکے بیان فرمائے گئے ہیں اور پھر کہا گیا کہ یہ اُنہی کے کلمات ہیں اور یا جو قصّے توریت کے ذکر کئے گئے ہیں اور اُن میں بہت سا تصرف ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ جس اعجازی طرز اور طریق اور فصیح فقروں اور دلچسپ استعارات میں قرآنی عبارات ہیں اِس قسم کے فصیح فقرے کافروں کے منہ سے ہرگز نہیں نکلے تھے اور نہ یہ ترتیب تھی بلکہ یہ ترتیب قصوں کی جو قرآن میں ہے توریت میں بھی بالالتزام ہرگز نہیں ہے۔ حالانکہ فرمایا ہے 33 ۱ اور اگر یہ کلمات اپنی صورت اور ترتیب اور صیغوں کے رُو سے وہی ہیں جو مثلاً کافروں کے مُنہ سے نکلے تھے تو اِس سے اعجاز قرآنی باطل ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں وہ فصاحت کفار کی ہوئی نہ قرآن کی اور اگر وہی نہیں تو بقول تمہارے کذب لازم آتا ہے کیونکہ اُن لوگوں نے تو اور اور لفظ اور اور ترتیب او راور صیغے اختیار کئے تھے اور جس طرح متوفّیک اور توفّیتنی دو مختلف صیغے ہیں۔ اِسی طرح صدہا جگہ ان کے صیغے اور قرآنی صیغے باہم اختلاف رکھتے تھے مثلاً توریت میں ایک قصۂ یوسف ہے نکال کر دیکھ لو اور پھر قرآن شریف کی سورہ یوسف سے اس کامقابلہ کرو تو دیکھو کہ کس قدر صیغوں میں اختلاف اور بیان میں کمی بیشی ہے بلکہ بعض جگہ بظاہر معنوں میں بھی اختلاف ہے ایسا ہی قرآن نے بیان کیاہے کہ ؔ ابراہیم کا باپ آزر تھا لیکن اکثر مفسر لکھتے ہیں کہ اس کا باپ کوئی اور تھا نہ آزر۔ اب اے نادان جلد توبہ کر کہ تو نے پادریوں کی طرح قرآن پر بھی حملہ کردیا۔ صحیح بخاری کی پہلی حدیث ہے کہ اِنّما الاَعمال بِالنیّات