جیسا کہ بخاری میں ہے۔ اس کے معنے امتّنی بیان کرنا۔
اقول۔ اس نادان معترض کی اس پوچ اورلچر عبارت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ صحیح بخاری میں اس جگہ آیت یا عیسٰی انّی متوفّیک کی تفسیر میں یہ قول ہے کہ متوفّیک ممیتک یہ قول نہیں کہ لما توفیتنی۔ اَمتّنی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ میری کلام کا اصل مقصود احادیث کا خلاصہ مطلب بیان کرنا ہے نہ یہ کہ کسی حدیث کے ٹھیک ٹھیک لفظ لکھنا جیسا کہ میرے اس فقرہ کے ذکر کرنے سے کہ اور حدیثوں میں یعنی بخاری وغیرہ میں۔ یہ میرا مدعا سمجھا جاتا ہے اور منصف کو میرے کلام پر غور کرنے سے شک نہیں رہے گا کہ میرا مُدعا اِس جگہ حرف احادیث کا خلاصہ اور مآل اقوال لکھنا ہے نہ نقل عبارت اور ظاہر ہے کہ جو شخص مثلاً بیس ایسی حدیثوں کے معنے بیان کرنے لگتا ہے جو مختلف الفاظ میں آئی ہیں اور مآل واحد ہے تو اُس کو اُن احادیث کا حاصل مطلب لکھنا پڑتا ہے تا وہ لفظ سب پر منطبق ہو اور نیز اصل مقصود کا مفسر ہوجائے۔ اسی طرح اصل مقصود بخاری وغیرہ کا اَمتّنیہے جو ذِکر کے قابل تھا اور اگرچہ خاص بخاری کا لفظ متوفّیک ممیتک ہے مگر میرے بیان میں صرف بخاری کے الفاظ پر حصر نہیں رکھا گیا۔ عموماً احادیث کی بحث ہے بخاری ہو یا غیر بخاری اور پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ خود بخاری نے اسی مقام میں اس آیت یعنی فلمّا توفیتنی کو بغرض تظاہر آیتینؔ ذِکر کرکے جتلادیا ہے کہ یہی تفسیر فلمّا توفّیتنی کی ہے اوروہی استدلال قول ابن عباس کا اس جگہ صحیح ہے جیسا کہ انّی متوفّیک میں صحیح ہے اور نیز اس جگہ یہ یاد رہے کہ خدا تعالیٰ جو اصدق الصادقین ہے اُس نے اپنی کلام میں صدق کو دو قسم قرار دیا ہے ایک صدق با عتبار ظاہر الاقوال دوسرے صدق باعتبار التاویل والمآل ۔ پہلی قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیسیٰ مریم کا بیٹا تھااور