سے کام لیا ہے کہ کوئی مومن باللہ ایسی دلیری نہیں کرسکتا۔ اب سچ کہہ اے میاں عبد الحق کیا کوئی مومن باللہ ایسی دلیری کرسکتا ہے جو میاں عبداللہ نے کی کہ مفتری کا نام صادق اورآسمانی نور رکھا۔ خدا تعالیٰ تو مفتریوں پر *** بھیجتا ہے پس جس شخص نے ایسا جھوٹا الہام اورکشف بنایا کہ یہ بیان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر خدا تعالیٰ کا نور نازل ہوا اور میری اولاد اُس سے بے نصیب رہ گئی اُ س کی نسبت آپ لوگوں کا کیا فتویٰ ہے۔ ضروریہ فتویٰ شائع کرنا چاہیئے۔ 3 ۱؂۔ آپ تو یہ رونا روتے تھے کہ نعوذ باللہ میں نے جھوٹ بولا ہے۔ اب آپ کے اقرار سے یہ ثابت ہوا کہ عبد اللہ غزنوی کئی مرتبہ خدا پر جھوٹ بول کراور حضرت احدیّت پر افترا کرکے اِس دنیا سے گذر گیا ہے اور جو خدا پر افترا کرے اُس سے بدتر کون ہوسکتا ہے۔ ؂ مراخواندی و خود بدام آمدی نظر پختہ ترکن کہؔ خام آمدی قولہ۔ تین صریح جھوٹ ثابت کرتا ہوں جو کسی ایماندار بلکہ ذرہ شرم و حیا والے آدمی کا کام نہیں۔ اقول۔ اے شرم اور حیا سے دُور اِس تیرے قول سے بھی میں کچھ رنج نہیں کرتا کیونکہ پہلے بے ایمانوں کے طریق اور عادت کو تو نے پورا کیا ۔ہر ایک نبی اور خدا کا مامور اور صادق اور صدیق جو دنیا میں آیااُس کو بدبخت کفار نے جھوٹا کہا بلکہ کذّاب نام رکھا اور تو نے ساری جانکاہی سے تین مقام پیش کئے جن میں تیرے زعم باطل میں میں نے جھوٹ بولا ہے اوروہ تین مقام یہ ہیں جن کا جواب دیتا ہوں۔ قولہ۔ اوّل جھوٹ یہ ہے کہ صفحہ پانچ سطر ۲۰ و ۲۱ میں لکھا ہے کیونکہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کی نسبت لمّا توفّیتنیفرمانا اور حدیثوں میں