ہو جائیں گے۔ اور اس فیض سے بے نصیب رہ جائیں گے* حافظ محمد یوسف صاحب اب تک زندہ ہیں ایک مجلس مقرر کرو اور مجھے اس میں بلاؤاور پھر ان دونوں بزرگوں کو خدا کی قسم دے کر پوچھو کہ یہ دونوں واقعات اُنہوں نے بیان کئے ہیں یا نہیں اور یہ لوگ تمہاری جماعت میں سے ہیں اور نیز مولوی عبد اللہ کے مربی اور محسن بھی۔ اب بتلاؤ کہ کیسی تمہاری جان شکنجہ میں آگئی او ر کس طرح صفائی سے ثابت ہوگیا کہ تم ہی مفتری ہو خدا اپنی مخلوق کو تمہارے افتراؤں سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین
قولہ۔ مرزا کی کتابیں اس قسم کے جھوٹ اور افتراؤں سے بھری ہوئی ہیں کہ کوئی مومن باللہ ایسی دلیری نہیں کرسکتا۔
اقول ۔ اس تقریر کا دوسرے لفظوں میں مآل یہ ہے کہ عبد اللہ غزنوی نے ایسے مفتری کا نام صادق اورمنجانب اللہ رکھ کر ایک ایسے جھوٹ اورافترا
* معلوم ہوتا ہے کہ یہ کشف اُس زمانہ کا ہے جبکہ یہ راقم اپنی عمر کے ابتدائی زمانہ میں مولوی
عبد اللہصاحب کو بمقام خیروی جاکر ملا تھا اور تفاول نکالا تھا کہ مجھے خیر اور بہتری ملی۔ تب عبداللہ صاحب کو اپنی نسبت دعا کے لئے کہا تو اُنہوں نے دوپہر کے وقت شدّت گرمی میں گھر میں جاکر میری نسبت دعا کی اور میری نسبت اپنا ایک الہام سنایا اور وہ یہ کہ انت مولا نا فانصرنا علی القوم الکافرین اور بوقت ظہر گھر سے واپس آکر تبسم کے ساتھ مجھے کہا کہ خدا کی مجھ سے یہ عادت نہ تھی جو تمہارے معاملہ میں ظہور میں آئی اور اپنی فارسی زبان میں فرمایا کہ اس الہام سے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ صحابہ کے رنگ پر تمہارے شامل حال نصرت الٰہی رہے گی۔ اور پھر میں قادیاں میںآیا تو ایک خط ڈاک میں بھیجا جس میں مکرر اً یہی الہام تھا اور شاید بعض اور فقرے بھی تھے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب ممدوح نے اسی تقریب اور تحریک سے قادیاں پر نور نازل ہوتا دیکھا۔ اچھا آدمی تھا خدا اُس پر رحمت نازل کرے آمین۔ منہ