مہدی عنقریب ظاہر ہونے والا ہے بلکہ پیدا ہوچکا اور اب ہم اُس کے زمانہ میں ہیں * و ہ لوگ اب تک زندہ موجود ہیں جن کو یہ کشف سنایا گیا تھا۔ مگر اے ناحق شناس تو نے مُرشد کے مرُشد کا بھی ادب نگہ نہ رکھا۔ پس آفرین تیرے پر کہ تو نے اپنے مرشد اور مرشد کے مرشد سے خوب نیکی کی اور اُن کا نام مفتری اور کذاب رکھا اگر مولوی عبد اللہ صاحب کی اولاد اپنے باپ کی کچھ عزت کرتے ہیں تو چاہیئے کہ ایسے آدمی کو فی الفور اپنی جماعت میں سے نکال دیں کیونکہ جو اُستاد اور مرشد کا مخالف ہو اُس کے وجود میں خیر نہیں۔ اے بے ادب کیا تو ایسے بزرگ کی بے ادبی کرتا ہے جس کی شاگردی کا تو خود قائل ہے اور اگر تو یہ جواب دے کہ منشی محمد یعقوب صرف ایک گواہ ہے تو یہ دوسری بشارت بھی سن لے کہ چونکہ ضرور تھا کہ مباہلہ کے بعد ہر طرح سے خدا تجھے ذلیل کرے اور تیری رسوائی دنیا پر ظاہر ہو۔ اِس لئے اُسی دن جبکہ ہم مباہلہ سے فراغت پاچکے یا شاید دوسرے دن بوقت شام حافظ محمد یوسف داروغہ انہار نے جن کی بزرگی کے تم سب لوگ قائل ہو مجھ سے ملاقات کی اور ایک بڑی جماعت میں جو سو کے قریب آدمی تھا گواہی دی کہ مولوی عبد اللہ صاحب نے ایک کشف اپنا مجھے سنایا ہے کہ ایک نورؔ آسمان سے گرا اور وہ قادیاں پر نازل ہوا اور میری اولاد اس سے محروم رہ گئی یعنی وہ لوگ اس کو قبول نہیں کریں گے اور مخالف
اگرچہ میاں صاحب موصوف کے مُنہ سے صرف مہدی کا لفظ نکلا تھا کہ وہ پیدا ہوگیا اور زبان اس کی پنجابی ہے مگر سامعین نے قرائن مقرر کے لحاظ سے یہی سمجھا تھا کہ مہدی معہود ان کی مراد ہے کیونکہ اس وقت اُسی کی انتظار ہے اور عام محاورہ لوگوں کا یہی ہے کہ جب مثلاً کوئی کہتاہے کہ مہدی کب ظاہرہوگا تو اُس کا مقصود مہدی معہود ہی ہوتا ہے اور مخاطب
یہی سمجھتا ہے۔ منہ