تیرا اُستادمجھ سے بڑھ کر مفتری تھا اور قیامت اور حساب اور دوزخ اور جنت پر ایمان نہیں رکھتا تھا کیونکہ بقول تمہارے اُس نے ایک ایسے آدمی کو سچا اور منجانب اللہ قرار دیا جو خدا پر افترا کرتا تھا۔ اے نادان یہ تمام تیری گالیاں تیری طرف ہی عود کرتی ہیں جب تک تو یہ ثابت نہ کرے کہ جو کچھ تیرے استاد عبد اللہ نے گواہی دی وہ صحیح نہیں ہے۔ اے ظالم تو کیوں استاد کا عاق بنتا ہے تجھے تو چاہیئے تھا کہ سب سے پہلے تو ہی مجھے قبول کرتا کیونکہ تو نے اپنے اس اشتہار میں بھی اپنے نام کے ساتھ یہ لفظ لکھے ہیں۔ ’’ عبد الحق غزنوی تلمیذ حضرت مولانا مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی ‘‘۔ اے بے ادب تو نے اپنے اُستاد کو یہی صِلہ دینا تھا کہ جس شخص کو وہ راستباز کہتا ہے تو نے اُس کو کذّاب قرار دیا اور جبکہ تیری اِس مخالفت کے رُو سے عبد اللہ غزنوی مفتری ٹھہرا۔ اور اُس نے ناحق دروغ کے طورپر مجھے مظہرانوار الٰہی ٹھہرایاتو اب تجھے تو شرم سے مر جانا چاہیئے کہ تو اُسی مفتری کا شاگرد ہے۔ میں نہیں کہتا کہ مولوی عبد اللہ غزنوی مفتری تھااور نہ ؔ میں اِس کا نام کذّاب اوردھوکہ باز رکھتا ہوں لیکن تو نے بلا شبہ اس کو مفتری بنا دیا۔ خدا تجھ کو اس کی مکافات دے کہ ایسے عبد صالح کو تونے عبد طالح قرار دیا کیونکہ جس حالت میں وہ مجھے صادق اورخدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتا ہے اور میں بقول تیرے مفتری اور کذّاب او ردجّال ہوں تو یہی نام عبد اللہ کو بھی تیری طرف سے تحفہ پہنچا۔ مگر تیرے پر کوئی کیا افسوس کرے کیونکہ عبد اللہ تو عبد اللہ تو نے تو اُس کے مرشد کو بھی مفتری ٹھہرایا کیونکہ میاں صاحب کو ٹھہ والے جو مولوی عبد اللہ صاحب کے مرشد تھے قریب موت کے وصیت کرگئے تھے کہ پنجاب میں