ٹھہر ؔ سکتی تھی اور نہ وہ اس چھوٹی سی عمر میں یعنی تینتیس برس میں سیاحت کر سکتے تھے۔ اور یہ روائتیں نہ صرف حدیث کی معتبر اور قدیم کتابوں میں لکھی ہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے فرقوں میں اس تواتر سے مشہور ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں۔ کنز العمّال جو احادیث کی ایک جامع کتاب ہے اس کے صفحہ ۳۴* میں ابوہریرہ سے یہ حدیث لکھی ہے۔ اوحی اللّٰہ تعالٰی الٰی عیسٰی ان یاعیسٰی انتقل من مکان الٰی مکان لئلا تعرف فتؤذٰی یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ اے عیسیٰ ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف نقل کرتا رہ یعنی ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف جاتاکہ کوئی تجھے پہچان کر دکھ نہ دے۔ اور پھر اسی کتاب میں جابر سے روایت کر کے یہ حدیث لکھی ہے۔ کان عیسی ابن مریم یسیح فاذا امسٰی اکل بقل الصحراء و یشرب الماء القراح ؤ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ سیاحت کیا کرتے تھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف سیرکرتے تھے اور جہاں شام پڑتی تھی تو جنگل کے بقولات میں سے کچھ کھاتے تھے اور خالص پانی پیتے تھے۔ اور پھر اسی کتاب میں عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے جس کے یہ لفظ ہیں۔ قال احب شیء الی اللّٰہ الغرباء قیل ای شیء الغرباء، قال الذین یفرّون بدینھم و یجتمعون الٰی عیسی ابن مریمخ۔یعنی فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پیارے خدا کی جناب میں وہ لوگ ہیں جو غریب ہیں۔ پوچھا گیا کہ غریب کے کیا معنی ہیں کہا وہ لوگ ہیں جو عیسیٰ مسیح کی طرح دین لے کر اپنے ملک سے بھاگتے ہیں۔ تیسرا باب (ان شہادتوں کے بیان میں جو طبابت کی کتابوں میں سے لی گئی ہیں) ایک اعلیٰ درجہ کی شہادت جو حضرت مسیح کے صلیب سے بچنے پر ہم کو ملی ہے اور جو ایسی شہادت * جلد دوم۲ ؤجلد دوم ۲ صفحہ۷۱ خ جلدچھ۶ صفحہ