ہےؔ کہ بجز ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا وہ ایک نسخہ ہے جس کا نام مرہم عیسیٰ ہے جو طب کی صدہا کتابوں میں لکھا ہوا پایا جاتا ہے۔ ان کتابوں میں سے بعض ایسی ہیں جو عیسائیوں کی تالیف ہیں اور بعض ایسی ہیں کہ جن کے مؤلّف مجوسی یا یہودی ہیں۔ اور بعض کے بنانے والے مسلمان ہیں۔ اور اکثر ان میں بہت قدیم زمانہ کی ہیں۔ تحقیق سے ایسا معلوم ہوا ہے کہ اول زبانی طورپر اس نسخہ کا لاکھوں انسانوں میں شہرہ ہوگیا اور پھر لوگوں نے اس نسخہ کو قلمبند کرلیا۔ پہلے رومی زبان میں حضرت مسیح کے زمانہ میں ہی کچھ تھوڑا عرصہ واقعہ صلیب کے بعد ایک قرابادین تالیف ہوئی جس میں یہ نسخہ تھا اور جس میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے یہ نسخہ بنایا گیا تھا۔ پھر وہ قرابا دین کئی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئی یہاں تک کہ مامون رشید کے زمانہ میں عربی زبان میں اس کا ترجمہ ہوا۔ اور یہ خدا کی عجیب قدرت ہے کہ ہر ایک مذہب کے فاضل طبیب نے کیا عیسائی اور کیا یہودی اور کیا مجوسی اور کیا مسلمان سب نے اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور سب نے اس نسخہ کے بارے میں یہی بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ان کے حواریوں نے طیار کیا تھا اور جن کتابوں میں ادویہ مفردہ کے خواص لکھے ہیں ان کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ ان چوٹوں کے لئے نہایت مفید ہے جو کسی ضربہ یا سقطہ سے لگ جاتی ہیں اور چوٹوں سے جو خون رواں ہوتا ہے وہ فی الفور اس سے خشک ہوجاتا ہے اور چونکہ اس میں مُرّ بھی داخل ہے اس لئے زخم کیڑا پڑنے سے بھی محفوظ رہتاہے۔ اور یہ دوا طاعون کے لئے بھی مفید ہے۔ اور ہر قسم کے پھوڑے پھنسی کو اس سے فائدہ ہوتا ہے ۔یہ معلوم نہیں کہ یہ دوا صلیب کے زخموں کے بعد خود ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے الہام کے ذریعہ سے تجویز فرمائی تھی یا
کسی طبیب کے مشورہ سے طیار کی گئی تھی۔ اس میں بعض دوائیں اکسیر کی طرح ہیں۔ خاص کر
مُرّ جس کا ذکر توریت میں بھی آیا ہے۔ بہرحال اس دواکے استعمال سے حضرت مسیح علیہ السلام