یہیؔ چاہا کہ جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو مصلوب کرنا ایک مشہور امر تھا اور امور بدیہیہ مشہودہ محسوسہ میں سے تھا اسی طرح تطہیر اور بریّت بھی امور مشہودہ محسوسہ میں سے ہونی چاہئیے۔ سو اب اسی کے موافق ظہور میں آیا یعنی تطہیر بھی صرف نظری نہیں بلکہ محسوس طور پر ہوگئی اور لاکھوں انسانوں نے اس جسم کی آنکھ سے دیکھ لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے۔ اور جیسا کہ گلگتہ یعنی سری کے مکان پر حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچا گیا تھا ایسا ہی سری کے مکان پر یعنی سرینگر میں ان کی قبرکا ہونا ثابت ہوا۔ یہ عجیب بات ہے کہ دونوں موقعوں میں سری کا لفظ موجود ہے۔ یعنی جہاں حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر کھینچے گئے اس مقام کا نام بھی گلگت یعنی سری ہے اور جہاں انیسویں صدی کے اخیر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر ثابت ہوئی اس مقام کا نام بھی گلگت یعنی سری ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ گلگت کہ جو کشمیر کے علاقہ میں ہے یہ بھی سری کی طرف ایک اشارہ ہے۔ غالباً یہ شہر حضرت مسیح کے وقت میں بنایا گیا ہے اور واقعہ صلیب کی یادگار مقامی کے طور پر اس کا نام گلگت یعنی سری رکھا گیا۔ جیسا کہ لاسہ جس کے معنی ہیں معبود کا شہر۔ یہ عبرانی لفظ ہے اور یہ بھی حضرت مسیح کے وقت میں آباد ہوا ہے۔ اور احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسیح کی عمر ایک سو پچیس ۱۲۵ برس کی ہوئی ہے۔ اور اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی تھیں کہ کسی نبی میں وہ دونوں جمع نہیں ہوئیں۔ (۱) ایک یہ کہ انہوں نے کامل عمر پائی یعنی ایک سو پچیس ۱۲۵ برس زندہ رہے۔ (۲) دوم یہ کہ انہوں نے دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کی۔ اس لئے نبی سیاح کہلائے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر وہ صرف تینتیس۳۳ برس کی عمر میں آسمان کی طرف اٹھائے جاتے تو اس صورت میں ایک سو پچیس ۱۲۵ برس کی روایت صحیح نہیں