ہنسی اکثر مراسی کیا کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ میاں عبد الحق نے کیوں یہ طریق اختیار کیا ہے۔ بھلا اگر ابھی کوئی میاں عبد اللہ غزنوی پر چند ایسے اعتراض کردے کہ اگر وہ ملہم تھا تواُس کو چاہیئے تھا کہ اپنے فلاں فلاں ذاتی نقص دُور کرتا اور لوگوں کو یہ نشان دکھلاتا تو مجھے معلوم نہیں کہ غزنوی صاحبان کیا جواب دیں گے۔ اے عزیز ! اگر تم دوسرے کو اِس طرح پر دُکھ دوگے تو وہ تمہارے باپ اور تمہارے مرشد تک پہنچے گا۔ پس اِن فتنہ انگیز باتوں سے فائدہ کیا ہوابلکہ خدا کے نزدیک اپنے باپ اور اپنے مرشد کی تحقیر کرنے والے تم خود ٹھہروگے۔ اور اگر خدا کی قضا و قدر سے خود تمہاری دونوں آنکھوں پر نزول الماء نازل ہو جائے یا ٹانگوں پر فالج پڑے تو یہ ؔ ساری ہنسی یاد آجائے۔ اے غافلو! دوسروں پر کیوں عیب لگاتے ہو۔ کیا ممکن نہیں کہ خود تم کسی وقت ایسے بدنی نقص میں مبتلا ہو جاؤ کہ لوگ تم پر ہنسیں یا تمہارے چھونے سے پرہیز کریں ۔ خدا سے ڈرو اور کفار کا شعار اختیار نہ کرو۔ یاد رکھو کہ تمام نبیوں نے اُن لوگوں کو ملعون ٹھہرایاہے جو نبیوں اور ماموروں سے اقتراحی نشان مانگتے ہیں۔ دیکھو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کیا فرمایا کہ اِس زمانہ کے حرامکار مجھ سے نشان مانگتے ہیں انہیں کوئی نشان دکھلایا نہیں جائے گا۔ایسا ہی قرآن نے ان لوگوں کانام ملعون رکھا جو لوگ حضرت سیّدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تجویز سے نشان مانگا کرتے تھے جن کابار بار *** کے ساتھ قرآن شریف میں ذکر ہے جیسا کہ وہ لوگ کہتے تھے 3 3 ۱ یعنی ہمیں حضرت موسیٰ کے نشان دکھلائے جائیں یا حضرت مسیح کے اور کبھی آسمان پر چڑھ جانے کی درخواست کرتے تھے اور کبھی یہ نشان مانگتے تھے کہ سونے کا گھر آپ کے لئے بن جائے اور ہمیشہ انہیں نفی میں جواب ملتا تھا۔ تمام قرآن شریف کو