کہا جائے کہ آؤ فیصلہ کرو تو جواب ملتا ہے کہ اس فضول کام کے لئے علماء کو فرصت کہاں ہے اور کرایہ کے لئے خرچ کہاں۔ ہم اس وقت ایسے علماء کو خدا کی حجت پوری کرنے کے لئے کرایہ کی مدد دینے کو بھی حسب شرائط مذکورہ بالا طیار ہیں۔ کاش کسی طرح اُن کے دل سیدھے ہوں۔ اسلام سب مذہبوں پر غالب ہوتا ہے۔ یہ کیسا اسلام ان کے ہاتھ میں ہے جو ان کو تسلی نہیں دے سکتا۔ غرض اب ہم نے ان کا یہ عذر بھی توڑ دیا۔
قولہ ۔ اے نئے عیسائیو اور نیا گرجا بنانے والو۔ ہم ایک سہل اور نہاؔ یت آسان طریق بتلاتے ہیں۔
اقول۔ اے حد سے بڑھنے والے کیا اُن مسلمانوں کا نام عیسائی رکھتا ہے جو اسلام کے حامی اور زمین پر حُجّت اللّٰہ ہیں۔ اگر مسلمان تیرے جیسے ہی ہوتے تو اسلام کا خاتمہ تھا۔ پھر اس کے بعد آپ نے تمسخر اور ٹھٹھے سے مولوی عبد الکریم صاحب کا ذِکر کیاہے اور نشان یہ مانگا ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو جو ایک ٹانگ میں کچھ کمزوری ہے اور ایک آنکھ کی بصارت میں خلل ہے یہ دونوں عارضے جاتے رہیں۔ اور اس ذکر سے اصل غرض آپ کی صرف ٹھٹھا اور ہنسی ہے اور یہ مقولہ محض اُن کا فروں کی طرح ہے جو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے اوریہ نشان مانگتے تھے کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو اس کے لڑکے جس قدر مرگئے ہیں اُن کو زندہ کردے۔ مگر ہم اِس ٹھٹھے کا ابھی جواب دے چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انسان بوجہ اپنی انسانیت کے کسی نہ کسی نقص سے خالی نہیں ہوتا اور ہمیشہ امراض آفات بھی لاحق رہتے ہیں۔ عزیز و اقارب بھی مرتے ہیں لیکن کوئی شریف نشان مانگنے کے بہانہ سے اِس طرح پر دِل نہیں دُکھاتا۔ یہ قدیم سے رذیلوں اور سفیہوں کا کام ہے اور ہمارے ملک میں اِس قسم کا ٹھٹھا