اوّل سے آخر تک دیکھو کہیں اِس بات کا نام و نشان نہ پاؤ گے کہ کسی کافر نے اپنی طرف سے یہ نشان مانگا ہو کہ کسی کی ٹانگ درست کردو یا آنکھ درست کردو یا مُردہ زندہ کردو۔ تو آنحضرت نے وہی کام کردیا ہو اور نہ انجیل میں اس کی کوئی نظیر ملے گی کہ کفار نشان مانگنے آئے اور اُنہیں دکھایا گیا بلکہ ایک دفعہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ فلاں شخص جس کی نئی شادی ہوئی تھی اور سانپ کے کاٹنے سے مرگیا تھا اُس کو زندہ کردو تو آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے بھائی کو دفن کرو۔ غرض قرآن شریف اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ مکہ کے پلید اور حرامکار کافر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے طرح طرح کے نشان مانگا کرتے تھے اور ہمیشہ اس سوال کی منظوری سے محروم رہتے اور خداتعالیٰ سے لعنتیں سنتےؔ تھے ایسا ہی تمام انجیل پڑھ کر دیکھ لو کہ اقتراحی نشان مانگنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے گالیاں سنا کرتے تھے۔ سواے عزیز! کچھ خدا کا خوف کرو عمر کا اعتبار نہیں۔ خدا تعالیٰ میرے ہاتھ پر نشان ظاہر کرتا ہے مگر اُس سنت کے موافق جو قدیم سے اپنے مامورین سے رکھتا ہے۔ اور بلاشبہ اس سُنت کے التزام سے ایک شخص اگر شیطان بن کر بھی آوے تب بھی اُس کو الٰہی نشانوں سے قائل کردیا جائے گا لیکن اگر خدا کی سنت قدیمہ کے مخالف دیکھنا چاہے تو اس کا اُس نعمت سے کچھ حصہّ نہیں اور بالیقین وہ ایسا ہی محروم مرے گا جیسا کہ بوجہل وغیرہ محروم مرگئے۔ اے عزیز آپ کا اختیار ہے کہ اُس طرح پر جو خدا نے مجھے مامور کیا ہے ایک جماعت لنگڑوں لولوں اندھوں اور کانوں اور دوسرے بیماروں کی لے آؤ اور پھر اُن میں سے قرعہ اندازی کے طریق پر جس جماعت کو خدا میرے حوالہ کرے گا اگر اُن میں مَیں مغلوب رہا تو جس قدر تم نے اپنے اشتہار میں گالیاں دی ہیں اُن سب کا میں مستحق ہوں گا ورنہ وہ تمام گالیاں تمہاری طرف رجوع