موقع کے سمجھنے میں غلطی بھی کرسکتا ہے چنانچہ علماء اس پر دلیل حدیث ذَھَبَ وَہْلِیْ کو پیش کرتے ہیں جو بخاری میں موجود ہے۔ اور اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کسی تاویل کی غلطی سے پیشگوئی غلط نہیں ٹھہرسکتی اور نہ غیرالہامی ٹھہرسکتی ہے پس جب نبیوں کی پیشگوئی میں یہاں تک وسعت ہے کہ نبی کے غلط معنے پیشگوئی کو کچھ حرج نہیں پہنچاتے تو پھر اعتراض اُسی صورت میں ہوگا جبکہ الہام کا اسی کے الفاظ سے غلط ہونا ثابت ہو جائے۔
قولہ ۔ مرزا یقیناًجانتا ہے کہ اِس فضول کام کے لئے نہ کسی نے آنا ہےؔ اور نہ یہ کام ہونا ہے مفت کی میری شیخی مشہور ہو جائے گی۔
اقول۔ اے ناسمجھ خدا سے ڈر کیا دین کے کام کو فضول کام کہتاہے کیا خدا کے نبی فضول کام میں ہی مشغول رہے۔ اے عزیز ! کیا یہ کام فضول ہے جس سے ہزارہا جانیں جھوٹ اور ضلالت سے نجات پاتی ہیں اور اندرونی تفرقہ اس اُ مّت کا جس نے مسلمانوں کو کمزور کردیا ہے دُور ہوتا ہے۔ اگر یہ کام فضول ہے تو کیا دوسرے کام شریعت کے لئے ضروری تھے جو آپ لوگ کر رہے ہیں۔ مثلاً نذیر حسین دہلوی باوجود پیرانہ سالی کے شیخ محمدحسین بٹالوی کے لڑکے کی شادی پر بٹالہ آیا اور سیالکوٹ کے ضلع تک گیا۔ بجز کھانے پینے کے اور کیا غرض تھی۔ اِس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اِسی وجہ سے انحطاط میں ہے کہ حال کے مولوی ضروری کاموں کا نام فضول کام رکھتے ہیں اور اپنے نفسانی تجارتوں کے لئے عدن او ر مسقط تک سیر کر آتے ہیں اس کو کوئی فضول نہیں سمجھتا مگر تائید اسلام کے کاموں کو غیر ضروری سمجھتے ہیں اور یوں گوشت پلاؤ کھانے اور شادیوں کی دعوتوں میں شامل ہونے کے لئے صدہا کوس چلے جاتے ہیں۔ یہ خوب دینداری ہے کہ یوں تو ملک میں شور مچا رہے ہیں کہ گویا اِس جماعت میں داخل ہوکر تیس ہزار آدمی کافر ہوگیا اور ہوتا جاتا ہے اور جب