وقت اُن کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اعتراض کا کوئی موقع بھی ہے یانہیں۔ اے نادان ! خدا تعالیٰ نے جیسا کہ وعدہ فرمایا تھا مجھے چار لڑکے عطا فرمائے اور ہر ایک لڑکے کی پیدایش سے پہلے مجھے اپنی خاص وحی کے ذریعہ سے اس کے پیدا ہونے کی بشارت دی اور وہ ہر چہار بشارتیں ہر چہار اشتہار کے ذریعہ سے قبل از وقت دنیا میں شایع کی گئیں جن کے لاکھوں انسان ان ملکوں میں گواہ ہیں۔ پھر میں سمجھ نہیں سکتا کہ اعتراض کیاؔ ہوا ۔اعتراض تو تمہاری حالت پر واقع ہوتا ہے کہ مُنہ سے نکالا کہ خدا کے فضل سے میرے لڑکا ہوگا اوراس پیشگوئی کو اشتہار میں شائع کیا اورپھر وہ لڑکا اندر ہی اندر تحلیل پاگیا ۔باہر آنا اُس کو نصیب نہ ہوا ۔کاش وہ مُردہ ہی پیدا ہوتا تا تمہارے ہاتھ میں کچھ تو بات رہ جاتی۔ یہ بھی مباہلہ کا بد اثر تم پر پڑا کہ اولاد سے نامراد رہے۔ غرض میرے گھر میں تو اولاد کی بشارت کے بعد چار لڑکے ہوئے اور ہر ایک لڑکے کی پیدایش سے پہلے خدا نے خبر دی جس کو میں نے ہزارہا لوگوں میں شائع کیا مگر تم بتلاؤ کہ تمہارے گھر میں کیا پیدا ہوا۔تم تو اب تک اس اعتراض کے نیچے ہو۔کاش ایک صادق سے مباہلہ نہ کرتے تو شاید اب تک لڑکا ہو جاتا۔ سو آئینہ لے کر اپنا عیب دیکھو۔ میرے پر نکتہ چینی کا کوئی محل نہیں۔ ہاں اگر میں نے کوئی ایسا الہام شائع کیا ہے جس کے یہ معنے ہوں کہ اسی الہام کے قریب حمل سے اور اسی سال میں وہ لڑکا پیدا ہوگا تو وہ میرا الہام شائع کردو مگر خبردار کوئی اس قسم کا اعتراض پیش نہ کرنا جو اس سے پہلے بعض منافقوں نے حدیبیہ کے قصے پر پیش کیا تھا جس سے عمر فاروق کو خدا نے بچایا اور منافق ہلاک ہوئے۔ اے عزیز کیوں میرے کینہ کے لئے شریعتِ محمدیّہ سے دست بردار ہوتے ہو۔ اس جگہ تو کوئی ہاتھ ڈالنے کی تمہیں جگہ نہیں اور باوصف اس کے یہ متفق علیہ عقیدہ ہے کہ کبھی نبی اپنی پیشگوئی کے محل اور