اور لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی تھی وہ بباعث اس کی شوخی اور بیباکی اور بد زبانی کے جو پیشگوئی کے بعد اور بھی زیادہ ہوگئی تھی جلالی رنگ میں ظاہر ہوئی اور اُس کی زبان کی چھری آخر اُسی پر چل گئی۔
یہ تو آتھم کی نسبت ہم نے بیان کیا اور احمد بیگ کے داماد کی نسبت ہم بار بار بیان کرچکے ہیں کہ اس پیشگوئی کی دو ٹانگیں تھیں۔ ایک احمد بیگ کی موت کے متعلق اور ایک اُس کے داماد کے متعلق ؔ ۔ سو تم سن چکے ہو کہ احمد بیگ مُدّت ہوئی کہ پیشگوئی کی منشاء کے موافق فوت ہوچکا ہے اور اس کی قبر ہوشیارپور میں موجود ہے۔ رہا اس کاداماد سو پیشگوئی کی شرط کی وجہ سے اس کی موت میں تاخیر ڈال دی گئی اور ہم بیان کرچکے ہیں کہ پیشگوئی شرطی تھی۔ پھر جب احمد بیگ شرط سے لاپروا رہ کر مرگیا تو اس کی موت نے اس کے داماد اور دوسرے اقارب کو یہ موقع دیا کہ وہ ڈریں اور شرط سے فائدہ اُٹھائیں سو ایساہی ہوا اور احمد بیگ اور اُس کے داماد کے متعلق جو شرطی الہام تھا اس کی یہ عبارت تھی۔ ایھّا المرأۃ توبی توبی فان البلاء علٰی عقبک۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ یہ الہام قبل از وقت بمقام ہوشیارپور شیخ مہرعلی کے مکان پر بحاضری حافظ محمد یوسف یا منشی محمد یعقوب و نیز بحاضری منشی الٰہی بخش صاحب آپ کی جماعت میں سے ایک شخص کو جس کا نام عبد الرحیم تھا یا عبد الواحد تھا سنایا گیا تھا اور بعد میں یہ الہام چھپ بھی گیا تھا۔ غرض یہ پیشگوئی شرطی تھی جیساکہ آتھم کی پیشگوئی شرطی تھی اور اگر وہ شرطی بھی نہ ہوتی تا ہم بوجہ وعید ہونے کے یونس نبی کی پیشگوئی سے مشابہ ہوتی۔ اور خدا کی باتوں کا صبر سے انجام دیکھنا چاہیئے نہ شرارت سے اعتراض۔
اور فرزند موعود کی نسبت جو اعتراض تھا اس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ ہمارے مخالفوں کی کچھ ایسی عقل ماری گئی ہے کہ اعتراض کرنے کے