سچ سچ کہتا ہوں کہ اعتراض اس صورت میں ہوتا تھا جبکہ باوجود اس قدر انکسار اور خوف او رتذلّل آتھم کے جو اُس نے ظاہر کیا اور باوجود اس کے کہ وہ مارے غم کے دیوانہ وار ہوگیا اور آیندہ مقابلہ اور مباحثہ سے زبان بند کرلی پھر بھی خدا تعالیٰ اپنی شرط کا کچھ بھی اس کو فائدہ نہ پہنچاتا اور سخت گیری سے میعاد کے اندر ہی اُس کی زندگی کو ختم کردیتا۔ کیا اِس سے خدا کی پاک صفات کی معرفت حاصل نہیں ہوتی کہ اُس نے آتھمؔ کی تضرع اور خوف کا بھی اُسے فائدہ پہنچا دیا اور پھر پیشگوئی کی منشاء کے موافق اُس کے رشتہ حیات کو بھی توڑ دیا تا ثابت ہو کہ جس قدر آتھم نے انکسار اورخوف ظاہر کیا بظاہر اس کی پاداش یہ تھی کہ کم سے کم دس سال اس کو اور زندگی دی جاتی تابموجب آیت 3 ۱؂ وہ اپنے دِلی خوف کی پوری پاداش کو پا لیتا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اس لئے اس کو جلد ہلاک کردیا کہ تا پادری لوگ نادان لوگوں کو دھوکہ نہ دیں اور اپنے مذہب کی حقانیت پر اس کی زندگی کو دلیل نہ ٹھہرائیں۔ میں تو اُسی وقت ڈر گیا تھا جبکہ عام مجمع میں آتھم نے اپنی زبان مُنہ سے باہر نکالی او ررونے والی صورت بناکر دونوں ہاتھ اُٹھائے اور ظاہر کیا کہ مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتا ہوں۔ اور اُسی وقت مجھے خیال آیا تھا کہ اب یہ شخص اپنی اس ندامت کے اقرار سے خدائے رحیم کے آستانہ پر گرا ہے دیکھئے اس کا نتیجہ کیا ہوگا کیونکہ میں جانتا تھا کہ خدا رحیم ہے اور اُس کی اِسی صفت کی وجہ سے یونس نبی پر ابتلا آیا اور جن کے لئے اُس نے چالیس دن تک ایک مہلک عذاب کا وعدہ کیا تھا اُن کے دامن کا ایک ذرہ گوشہ بھی چاک نہ ہوا۔ اور یاد رہے کہ حق کے طالبوں کو اِس پیشگوئی اور لیکھرام والی پیشگوئی سے ایک علمی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آتھم کی پیشگوئی بباعث اُس کے ڈرنے اور خوف کھانے کے جمالی رنگ پر ظاہر ہوئی