عیسائی مذہب کا سچا ہونا ثابت ہوا۔ تم لوگوں کے لئے کیسے فخر کی بات تھی کہ دو شخص دو قوموں میں سے اسلام کے مقابل پر اُٹھے یعنی آتھم اور لیکھرام ۔اور اُن کو ایک آسمانی فیصلہ کے طور پر سنایا گیا کہ جو شخص جھوٹے مذہب پر ہوگا وہ اُس فریق سے پہلے مرجائے گاکہ جو سچے مذہب پر قائم ہے چنانچہ میری زندگی میں ہی آتھم اور لیکھرام دونوں مرگئے اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک زندہ ہوں اور اگر اسلام سچا نہ ہوتا تو ممکن تھا بلکہ ضروری تھا کہ ؔ میں پہلے ان سے مر جاتا۔ پس خدا سے ڈرو اور اُس فتح کو جو خدا کے کمال فضل سے اِسلام کو نصیب ہوئی میرے حسد کے لئے شکست کے پیرایہ میں بیان مت کرو۔ دیکھو اِس وقت آتھم کہاں ہے اور لیکھرام کس ملک میں ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ کئی برس ہوئے کہ آتھم فوت ہوگیا اور فیروزپور میں اُس کی قبر ہے۔ پس جبکہ پیشگوئی کی اصل غرض جو میری زندگی میں ہی آتھم کا فوت ہوجانا تھاپوری ہوچکی تو کیوں بار بار میعاد کا ذکر کرکے روتے ہو اور کہتے ہو کہ فوت تو ہوا مگر میعاد کے اندر فوت نہیں ہوایہ کیسا بیہودہ عذر ہے۔ اے نادانو ں اور خدا کی شریعت کے اسرار سے غافلو ! جبکہ وعید کی پیشگوئی میں خدا کو یہ بھی اختیار ہے کہ توبہ اور رجوع کرنے سے سرے سے عذاب کو ہی ٹال دیتا ہے تو کیا میعاد کی کمی و بیشی اس پر کوئی اعتراض پیدا کرسکتی ہے۔ 3 ۱ اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی رحمت اور رحیمانہ رعایت کو مخفی رکھنا نہیں چاہتا۔ پس جبکہ آتھم نے پیشگوئی کو سن کر اُسی وقت سر جھکا دیا اور زبان نکال کر اوردونوں ہاتھ اُٹھاکر توبہ اور ندامت کے آثار ظاہر کئے جس کے گواہ ڈاکٹر مارٹن کلارک بھی ہیں اور بہت سے معزز مسلمان اور عیسائی جن میں سے میرے خیال میں خان محمد یوسف خاں صاحب رئیس امرتسر بھی ہیں جو اُس وقت موجود تھے توکیا اس رجوع نے کوئی حصہ شرط کا پورا نہ کیا۔ میں