حامی ہوکر بحث کی ہے اور میں نے اسلام کو حق سمجھ کر اس کی حمایت میں بحث کی ہے۔ اب میں خدا سے الہام پاکر کہتا ہوں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص جھوٹے مذہب کا حامی ہے وہ سچے کے زندہ ہونے کی حالت میں ہی ہاویہ میں گرایا جاوے گا یعنی مرے گا۔ مگر جو سچے مذہب کا حامی ہے وہ سلامت رہے گا۔ اورجھوٹے کی موت پندرہ مہینہ کے اندر اِس حالت میں ہوگی جبکہ وہ حق کی طرف کچھ بھی ؔ رجوع نہ کرے گا۔ جب میں یہ پیشگوئی بیان کرچکا جس کا یہ خلاصہ ہے تو اُسی وقت آتھم نے زبان نکالی اورتوبہ کرنے والوں کی طرح دونوں ہاتھ اُٹھائے او ردجّال کہنے سے اپنی پشیمانی ظاہر کی۔ پس بلاشبہ ایک عیسائی کی طرف سے یہ ایک رجوع ہے جس کے ستر۷۰ سے زیادہ مسلمان اور عیسائی گواہ ہیں اور بعد اس کے برابر پندرہ مہینے تک عبد اللہ آتھم کا گوشہء تنہائی میں بیٹھنا اور امرتسر کے عیسائیوں کا ترک صحبت کرنا اور قانوناً نالش کرنے کا حق رکھ کر پھر بھی نالش نہ کرنا اور اقرر کرنا کہ میں ان لوگوں کی طرح حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا نہیں مانتا اورباوجود چار ہزار روپیہ انعام پیش کرنے کے قسم کھانے سے انکار کرنا اور میعاد پیشگوئی میں ایک حرف بھی ردِّ اسلام میں نہ لکھنا اور روتے رہنا اور برخلاف اپنی قدیم عادت کے ترک مباحثہ مسلمانوں سے کرنا یہ تمام ایسی باتیں ہیں کہ اگر انسان مفسد اور سیہ دل نہ ہوتو ضرور ان سے نتیجہ نکالے گا کہ بلاشبہ عبد اللہ آتھم پیشگوئی کے سننے کے بعد ڈرا اور اسلامی عظمت کو دِل میں بٹھایا۔ لہٰذا ضرور تھا کہ بقدر اپنے رجوع کے الہامی شرط سے فائدہ اُٹھاتا۔ پھر ان سب باتوں سے قطع نظر کرکے وہ شخص کیسا مسلمان ہے کہ جو اس قسم کے مذہبی مباحثہ میں جس کا نعوذ باللہ میرے مغلوب ہونے کی حالت میں اثر بد اسلام پر پڑتا ہے پھر بھی کہے جاتا ہے کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور پیشگوئی جھوٹی نکلی ۔ اے نادان اگر پیشگوئی جھوٹی نکلی تو پھر تجھے عیسائی ہو جانا چاہئے کیونکہ اس صورت میں