تو یہ تمہارا حمق ہے کہ ایسا خیال کرو کیونکہ پیشگوئی شرطی تھی اور شرط کے تحقق نے میعاد کی رعایت کو باطل کردیا تھااور نیز میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یونس نبی کو سچا نبی مانتے ہو یا نہیں اس کی پیشگوئی کیوں خطا گئی اس میں تو کوئی شرط بھی نہ تھی پھر اگر حیا اور ایمان ہے تو شرطی پیشگوئیوں پر کیوں اعتراض کرتے ہو۔ دیکھو یو نہ نبی کی کتاب اور دُرِّمنثور کہ کیسے یونہ نبی کو پیشگوئی کے ؔ خطا جانے سے تکالیف اٹھانی پڑیں۔ اب یونس کو مجھ سے زیادہ تر بُرا کہو کہ اُس کی قطعی پیشگوئی جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی خطا گئی۔ اے نادانو! اسلام پر کیوں تبر چلاتے ہو حق یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئی میں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہوتاہے کہ توبہ اور استغفار اور رجوع سے اس میں تاخیر ڈال دے گو اس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو تمام صدقات اور خیرات اور دعوات باطل ہو جائیں گی اور یہ اصول جو تمام نبیوں کا مانا ہوا ہے کہ یُرَدُّ القَضَاءُ بِالصَّدَقَاتِ وَالدُّعَاء صحیح نہیں رہے گا۔ ماسوا ا س کے ہر ایک عقلمند سوچ سکتاہے کہ میرااور ڈپٹی آتھم کا مقابلہ کسی میرے دعوے کے متعلق نہ تھا۔ اِس تمام بحث کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ آتھم یہ کہتا تھا کہ عیسائی دین سچا ہے اور نعوذ باللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مفتری ہیں اور قرآن خدا کا کلام نہیں بلکہ انسان کا افترا ہے ۔ اور میں کہتا تھا کہ عیسائی مذہب اپنی اصلیت پر قائم نہیں اور تثلیث و کفّارہ وغیرہ سب باطل ہیں۔ پس جب پندرہ دن بحث کے ختم ہوگئے تو آخری دن میں جیسا کہ خداتعالیٰ نے مجھے الہام کیا میں نے اُسی مجلس بحث میں جس میں ستر ۷۰ سے زیادہ مسلمان اور عیسائی موجود ہوں گے آتھم کو مخاطب کرکے کہا کہ تم نے اپنی کتاب میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کا نام دجّال رکھا ہے اور اِسلام کو جھوٹامذہب ٹھہرایا ہے اور دیکھو اس وقت تم نے عیسائی مذہب کے