سے الہام پاکر ایک پیشگوئی اپنی کتابوں میں شائع کی تھی کہ عبد الحق غزنوی نہیں مرے گا جب تک میرا چوتھا بیٹا پیدا نہ ہو۔ سو الحمد للہ کہ وہ بھی تمہاری زندگی میں ہی پیدا ہوگیا جس کانام مبارک احمد ہے اور اسی طرح سو کے قریب او رنشان ظاہر ہوا اور عزت پر عزت حاصل ہوتی گئی یہاں تک کہ دشمنو ں نے میری عزت کو ؔ اپنے لئے ایک عذاب دیکھ کر درد حسد سے مقدمات بھی بنائے لیکن ہر میدان میں مخذول اور مردود رہے۔ اب بتلاؤ کہ تمہیں مباہلہ کے بعد کونسی عزت اور قبولیت ملی اور کس قدر جماعت نے تمہاری بیعت کی اور کس قدر فتوحات مالی نصیب ہوئیں اور کس قدر اولاد ہوئی بلکہ تمہارامباہلہ تو تمہاری جماعت کے مولوی عبد الواحد کو بھی لے ڈوبا اور اس کی بھی بیوی کے فوت ہونے سے خانہ بربادی ہوئی۔ مجھے خدا نے وعدہ دیا تھا کہ مباہلہ کے بعد دو اور لڑکے تمہارے گھر پیدا ہوں گے سو دو اور پیدا ہوگئے اور وہ دونوں پیشگوئیاں جو صدہا انسانوں کو سنائی گئی تھیں پوری ہوگئیں۔ اب بتلاؤ کہ تمہاری پیشگوئیاں کہاں گئیں۔ ذرہ جواب دو کہ اِس فضول گوئی کے بعد کس قدر لڑکے پیدا ہوئے۔ ذرہ انصاف سے کہو کہ جبکہ تم منہ سے دعوے کرکے اور اشتہار کے ذریعہ سے لڑکے کی شہرت دے کر پھر صاف نامراد اور خائب و خاسر رہے ۔ کیا یہ ذِلّت تھی یاعزت تھی ؟ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ مباہلہ کے بعد جو کچھ قبولیت مجھ کو عطا ہوئی وہ سب تمہاری ذلّت کا موجب تھی۔
قولہ۔ کیا آتھم اور داماد مرزا احمد بیگ اور آپ کے فرزند موعود کا کوئی نتیجہ ظہور میں آیا۔
اقول۔ ہزارہا دانشمند انسان اِس بات کو مان گئے ہیں کہ آتھم پیشگوئی کے مطابق مرگیا اور اگر زندہ ہے تو پیش کرو اور اگر یہ کہو کہ میعاد کے اندر فوت نہیں ہوا