کہؔ مسیح کو خدا نے ایسی برکت دی ہے کہ جہاں جائے گا وہ مبارک ہوگا۔*سو ان سکوں سے ثابت ہے کہ اُس نے خدا سے بڑی برکت پائی اور وہ فوت نہ ہوا جب تک اس کو ایک شاہانہ عزت نہ دی گئی۔ اسی طرح قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت ہے 3 ۱؂ یعنی اے عیسیٰ میں ان الزاموں سے تجھے بَری کروں گا اور تیرا پاکدامن ہونا ثابت کردوں گا اور ان تہمتوں کو دور کردوں گا جو تیرے پر یہود اور نصاریٰ نے لگائیں۔ یہ ایک بڑی پیشگوئی تھی اوراس کا ماحصل یہی ہے کہ یہود نے یہ تہمت لگائی تھی کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح مصلوب ہوکر ملعون ہوکر خدا کی محبت ان کے دل میں سے جاتی رہی اور جیسا کہ *** کے مفہوم کے لئے شرط ہے ان کا دل خدا سے برگشتہ اور خدا سے بیزار ہوگیا اور تاریکی کے بے انتہا طوفان میں پڑ گیا اور بدیوں سے محبت کرنے لگااور کل نیکیوں کا مخالف ہوگیا اور خدا سے تعلق توڑ کر شیطان کی بادشاہت کے ماتحت ہوگیا اور اس میں اور خدا میں حقیقی دشمنی پیدا ہوگئی۔ اور یہی تہمت ملعون ہونے کی نصاریٰ نے بھی لگائی تھی مگر نصاریٰ نے اپنی نادانی سے دو ضدوں کو ایک ہی جگہ جمع کر دیا ہے۔ انہوں نے ایک طرف تو حضرت مسیح کو خدا کا فرزند قرار دیا اور دوسری طرف ملعون بھی قرار دیا ہے اور خود مانتے ہیں کہ ملعون تاریکی اور شیطان کا فرزند ہوتا ہے یا خود شیطان ہوتا ہے سو حضرت مسیح پر یہ سخت ناپاک تہمتیں لگائی گئی تھیں۔ اور ’’مُطَھِّرُکَ‘‘ کی پیشگوئی میں یہ اشارہ ہے کہ ایک زمانہ وہ آتا ہے کہ خدائے تعالیٰ ان الزاموں سے حضرت مسیح کو پاک کرے گا۔ اور یہی وہ زمانہ ہے۔ اگرچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تطہیر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی سے بھی عقلمندوں کی نظروں میں بخوبی ہوگئی کیونکہ آنجناب نے اور قرآن شریف نے گواہی دی کہ وہ الزام سب جھوٹے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لگائے گئے تھے۔ لیکن یہ گواہی عوام کی نظر میں نظری اور باریک تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کے انصاف نے * وَجَعَلَنِیْ مُبَارَکًا اَیْنَمَاکُنْتُ ۱؂ آل عمران: