اور بھی تم نے اپنی رُسوائی اور پردہ دری کرائی۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ لوگوں کا حیا کہاں گیا اور تقویٰ اور راست گوئی سے اس قدر کیوں دشمنی ہوگئی۔ سوچ کر دیکھ لو کہ جس قدر تم پر اور تمہاری جماعت پر ادبار ہے وہ مباہلہ کے دن کے بعد ہی شروع ہوا ہے۔ یہ تو میری سچائی کا ایک بڑانشان تھا جس سے آپ نے اپنی بدقسمتی سے ذرہ فائدہ نہیں اُٹھایا۔ نہ معلوم آپ لوگ کس غار کے اندر بیٹھے ہوکہ زمانہ کے حالات کی کچھ بھی خبر نہیں۔ ہزارہا لوگ بول اُٹھے ہیں اور ؔ بے شمار روحیں محسوس کر گئی ہیں کہ ہمارے اقبال اور ترقی اور تمہارے ادبار اور تنزّل کا دِن مباہلہ کا دِن ہی تھا۔ ایک ادنیٰ مثال دیکھ لوکہ مباہلہ کے دن بلکہ اسی وقت علی رؤس الاشہاد جبکہ مباہلہ ختم ہی ہوا تھا اور ابھی تم او رہم دونوں اُسی میدان میں موجود تھے اور تمام مجمع موجود تھا خدا تعالیٰ نے میری عزت اُس مجمع پر ظاہر کرنے کے لئے ایک فوری ذلّت اور فوری رُسوائی تمہارے نصیب کی یعنی فی الفور ایک گواہ تمہاری جماعت میں سے کھڑاکردیا وہ کون تھا منشی محمد یعقوب جو حافظ محمد یوسف کا بھائی ہے۔ اُس نے قسم کھائی او ررو رو کرمجھے مخاطب کرکے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سچے ہو کیونکہ میں نے مولوی عبد اللہ غزنوی سے سنا ہے کہ ایک خواب کی تعبیر کے موقع پر انہوں نے آپ کی تصدیق کی اور کہا کہ ایک نور آسمان سے اُترا ہے اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔اب دیکھو کہ تم ابھی مباہلہ کے مکان سے علیحدہ نہیں ہوئے تھے کہ خدا نے تمہیں ذلیل کردیا اور جس شخص کی استادی کاتم فخر کرتے ہو اُسی نے گواہی دے دی کہ تم جھوٹے اور غلام احمد قادیانی سچا ہے۔ اب اس سے زیادہ مباہلہ کا فوری اثر کیاہوگا کہ میرے لئے خدا کا اکرام و اعزاز اُسی وقت ظاہر ہوگیا اور اُسی وقت میری سچائی کی گواہی مل گئی اور گواہی بھی تمہارے اُس اُستاد کی یعنی عبد اللہ غزنوی کی کہ اگر اُس کی بات نہ مانو تو عاق کہلاؤکیونکہ تمہارا سارا شرف اُسی کے طفیل ہے اگر اُس کو