اور انتظار وقت کرو۔ اگر صرف گالیاں دینا ہے تو میں آپ کا مُنہ بند نہیں کرسکتا ۔ نہ حضرت موسیٰ ایسی بیہودہ گوئیوں کامُنہ بند کرسکے نہ حضرت عیسیٰ بند کرسکے اور نہ ہمارے سیّد و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بند کرسکے۔ لیکن آپ لوگوں میں اگر کوئی رشید ہو تو اُس کو سوچنا چاہیئے کہ میری دعوت کے قبول کرنے کے لئے کس قدر مسلمانوں میں پُرجوش حرکت ہو رہی ہے۔ پشاور سے چل کر راولپنڈی، جہلم، گجرات، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، وزیر آباد، امرؔ تسر، لاہور، جالندھر، لدھیانہ، انبالہ، پٹیالہ، دہلی، الہ آباد، بمبئی،کلکتہ ،مدراس، حیدرآباددکن غرض کہاں تک بیان کریں پنجاب او ر ہندوستان کے تمام شہروں اور دیہات کو دیکھو شاذ نادر ایساکوئی شہر ہوگا کہ جو اس جماعت کے کسی فرد سے خالی ہوگا۔ اب اگر مسلمانوں کی سچی ہمدردی ہے تو صرف یہ اوباشانہ باتیں کافی نہیں ہیں کہ مرزا بارہا لاجواب ہوچکاہے اور خائب اور خاسر اور نامراد رہا ہے۔ اب ایسے جھوٹ سے تو واقف کار لوگوں کو مردار سے زیادہ بدبو آتی ہے اور کوئی شریف اس کو پسند نہیں کرے گا۔ یوں تو ہندو اور چوہڑے اور چمار اور ادنیٰ سے ادنیٰ لوگ بارہا کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں سے مذہب میں گفتگو کرکے لاجواب کردیا اور وہ ہمارے ہر مجمع میں لاجواب اور خائب اور خاسر اور نامراد رہے۔ مگر شریف انسان کو ایسے ناپاک جھوٹ سے نفرت چاہیئے۔ اے عزیز اگر ایمان اور مسلمانوں کی ہمدردی کا حصہ ایک ذرّہ بھی دِل میں موجود ہے تو اِن فضول گوئیوں کا اب یہ وقت نہیں ہے۔ اب واقعی طور پر کوئی مقابلہ کرکے دِکھلانا چاہیئے۔ تا سیہ رُوئے شود ہرکہ دروغش باشد۔ قولہ۔ مباہلہ میں کما حقہ علیٰ رؤس الاشہاد رُسوا اور ذلیل ہوکر قابل خطاب اور لائق جواب علماء عظام وصوفیہ کرام نہیں رہا۔ اقول۔ افسوس کہ مباہلہ کا ذکر کرکے او ر اس قدر قابلِ نفرت جھوٹ بول کر