تم نے جھوٹا سمجھا تو پھر تم ناخلف شاگرد ہو۔ غرض یہ خدا کا ایک نشان تھا کہ مباہلہ ہوتے ہی اُسی میدان میں اُسی گھڑی اُسی ساعت خدا نے تمہیں تمہارے ہی اُستاد کی گواہی سے تمہاری ہی جماعت کے آدمی کے ذریعہ سے ذلیل اور رسوا کردیا اور نامرادی ظاہر کردی۔پھر مباہلہ کے بعد ایک اور نشان میری عزّت کا پیدا ہوا جس کے لاکھوں انسان گواہ ہیں اوروہ یہ کہ ہمارے سلسلہ کے لئے ؔ مجھے وہ فتوحات مالی ہوئیں کہ اگر میں چاہتا تواُن سے ایک غزنی کا بڑاحصہ خرید سکتا۔ چنانچہ اس پر سرکاری ڈاک خانجات کے وہ رجسٹر گواہ ہیں جن میں منی آرڈر درج ہوا کرتے ہیں۔ مگرکیا تمہیں اِس کے بعد کوئی ۲؍ کامنی آرڈر بھی آیا اگر آیا تو اِس کا ثبوت دو۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ہزارہا روپیہ جو مباہلہ کے بعد مجھے بھیجا گیا جو تیس ہز۳۰۰۰۰ار روپیہ سے کم نہ تھاکیا اِس بات پر دلیل نہیں ہے جو مسلمان لوگوں نے مجھے عزت اور بزرگی کی نظر سے دیکھا اور مجھے عزیز رکھ کر میرے پر اپنے مال فدا کئے۔ یہ ایک عظیم الشان نشان ہے جس سے انکارکرنا آفتاب پر تھوکنا ہے۔ پھر مباہلہ کی تاثیر کا نشان یہ ہے کہ یہ تیس ہزار آدمی کی جماعت جو اب میرے ساتھ ہے یہ مباہلہ کے بعد ہی مجھ کو ملی۔ آتھم کا وفات پاکر ہمیشہ کے لئے اسلامی مخالفت کو ختم کرکے دُنیا سے رخصت ہو جانا مباہلہ کے بعد ہی پیشگوئی کے موافق ظہور میں آیا۔ پیشگوئی کا یہ منشاء تھا کہ جو ہم دونوں میں سے جھوٹا مذہب رکھتا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو آتھم نے مجھ سے پہلے وفات پاکر میری سچائی پر مہر لگادی۔ پھر بعد اس کے لیکھرام کے قتل کاوہ نشان ظاہر ہوا جس پر تخمیناً تین ہزار مسلمان اور ہندوؤں نے ایک محضر نامہ پر جو ہماری طرف سے طیار ہوا تھا یہ گواہی اپنی قلم سے ثبت کردی کہ یہ پیشگوئی نہایت صفائی سے ظہور میں آئی۔ اسی محضر نامہ پر سیّد فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر نہر کے دستخط ہیں جو مخالف جماعت میں سے ہوکر تصدیق کرتا ہے۔