پھر آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ میری ہی دعوت کے وقت میں آسمان پر رمضان میں خسوف کسوف عین حدیث کے موافق وقوع میں آیا اور میرے ہاتھ پر سو۱۰۰ کے قریب نشان ظاہر ہو ا جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں جن کی تفصیل کتاب تریاق القلوب میں درج ہے کوئی طریق باقی نہیں رہا جس سے میں نے اتمامِ حجت نہیں کیا۔ نقلی طور پر میں نے اتمام حجت کیا۔ عقلی طورپر میںؔ نے اتمام حُجت کیا۔آسمانی نشانوں کے ساتھ میں نے اتمام حجت کیا اب اگر کچھ حیا ہے تو خود سوچ لو کہ کون شرمندہ اور خائب اور خاسر اور نامراد رہا اور میں نے صرف اسی پر بس نہیں کی۔ بارہا اشتہار دیئے کہ اگر آپ لوگوں میں کچھ سچائی ہے تو میرے مقابلہ پر آؤ قرآن سے دکھلاؤ یاحدیث سے دکھلاؤ کہاں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر زندہ مع جسم عنصری آسمان پر سے اتریں گے۔ میں تو اب بھی ماننے کو طیار ہوں اگر آیت3 ۱ کے معنے بجز مارنے اور ہلاک کرنے کے کسی حدیث سے کچھ اور ثابت کرسکو یاکسی آیت یا حدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کامع جسم عنصری آسمان پر چڑھنا یامع جسم عنصری آسمان سے اترنا ثابت کرسکو۔ یا اگر اخبار غیبیہ میں جو خدا تعالیٰ سے مجھ پر ظاہر ہوتی ہیں میرا مقابلہ کرسکو یا استجابت دعامیں میرا مقابلہ کرسکو یا تحریر زبان عربی میں میرا مقابلہ کرسکو یا اور آسمانی نشانوں میں جو مجھے عطا ہوئے ہیں میرامقابلہ کرسکو تو میں جھوٹا ہوں۔ آپ لوگ تو ان سوالات کے وقت مُردہ کی طرح ہوگئے یہی وجہ تو ہے کہ آپ لوگوں کو چھوڑ کر ہزارہا نیک مرد اور عالم فاضل اس جماعت میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔ اے عزیز! یہ اوباشانہ فضولیاں کچھ کام نہیں دے سکتیں۔ کیاحق کے طالب ایسی بیہودہ باتوں سے رُک سکتے ہیں ؟ یہ غزنی نہیں ہے