اقول۔ کیوں میاں عبد الحق کیا یہ تم نے سچ بولا ہے۔ کیا اب بھی ہم لعنۃ اللّٰہ علیالکاذبین نہ کہیں ۔ شاباش ! عبد اللہ غزنوی کا خوب تم نے نمونہ ظاہر کیا۔ شاگرد ہوں تو ایسے ہوں۔ بھلا اگر سچے ہی ہو تو ان مجامع اور مجالس کی ذرہ تشریح تو کرو جن میں مَیں شرمندہ ہوا اس قدر کیوں جھوٹ بولتے ہو کیامرنا نہیں ہے؟ بھلا ان مباحثات کی عبارات تو لکھو جن میں تم یا تمہاراکوئی اور بھائی غا ؔ لب رہا ورنہ نہ مَیں بلکہ آسمان بھی یہی کہہ رہا ہے کہلعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ میری طرف سے اتمام حجت اس سے زیادہ کیاہو سکتا تھا کہ میں نے قرآن سے ثابت کردیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ حدیث سے ثابت کردیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہوگئے اور ان کی عمر ایک سو پچیس برس کی تھی۔ معراج کی حدیث نے ثابت کردیا کہ وہ مردوں میں جاملے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے آسمان پرحضرت یحییٰ کے پاس انہیں دیکھا۔ کیااب بھی ان کے مرنے میں کسر باقی رہ گئی۔ تمام صحابہ کااُن کی موت پر اجماع ہوگیا اور اگر اجماع نہیں ہوا تھا تو ذرہ بیان تو کرو کہ جب حضرت عمر کے غلط خیال پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور پھر دوبارہ دنیا میں آئیں گے حضرت ابوبکر نے یہ آیت پیش کی کہ3 ۱ تو حضرت ابوبکر نے کیا سمجھ کر یہ آیت پیش کی تھی اور کونسا استدلال مطلوب تھا جو مناسب محل بھی تھا اور صحابہ نے اس کے معنے کیا سمجھے تھے اور کیوں مخالفت نہیں کی تھی اور کیوں اس جگہ لکھا ہے کہ جب یہ آیت صحابہ نے سنی تو اپنے خیالات سے رجوع کرلیا۔ اسی طرح میں نے حدیثوں سے ثابت کردیا ہے کہ آنے والا مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا اور اس کے ظہور کا یہی زمانہ ہے جیسا کہ حدیث یَکسر الصَّلیبسے سمجھا جاتا ہے۔