کے مانگنے میں کچھ قصور نہیں ہے بلکہ حسب آیت 3 ۱؂ ا ن کی طبیعت ہی اُن بدبخت کفار کے مشابہ واقع ہوئی ہے جو خداتعالیٰ کے نشانوں کو قبول نہیں کرتے تھے اور اپنی طرف سے اختراع کرکے درخواستیں کرتے تھے کہ ایسے ایسے نشان دکھاؤ ۔ لیکن اگر افسوس ہے تو صرف یہ ہے کہ ؔ ان لوگوں نے مولوی کہلاکر ہنسی ٹھٹھا اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔ جو شخص عبد الحق کے اشتہار کو غور سے پڑھے گا اس کو قبول کرنا پڑے گا کہ انہوں نے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کا شرارت اور بے ادبی سے ذکر کرکے ان کی ٹانگ کی درستی یا آنکھ کی نظر کی نسبت جو نشان مانگا ہے یہ ایک اوباشانہ طریق پر ٹھٹھا کیاہے جو کسی پرہیزگار اور نیک بخت کا کام نہیں ہے ۔ پلید دل سے پلید باتیں نکلتی ہیں اور پاک دل سے پاک باتیں۔ انسان اپنی باتوں سے ایسا ہی پہچانا جاتا ہے جیسا کہ درخت اپنے پھلوں سے ۔ جس حالت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرما دیاکہ 3 ۲؂ یعنی لوگوں کے ایسے نام مت رکھو جو ان کو بُرے معلوم ہوں تو پھر برخلاف اس آیت کے کرنا کن لوگوں کاکام ہے۔ لیکن اب تو نہ ہم عبد الحق پر افسوس کرتے ہیں نہ اس کے دوسرے رفیقوں پرکیونکہ ان لوگوں کا ظلم اور نا انصافی اور دروغ گوئی اور افترا حد سے گذ ر گیا ہے اسی اشتہار کو پڑھ کر دیکھ لو کہ کس قدر جھوٹ سے کام لیا ہے کیا کسی جگہ بھی خدا تعالیٰ سے حیاکی ہے چنانچہ ہم بطور نمونہ بطرز قولہ و اقول اس ظالم شخص کے جھوٹوں کا ذخیرہ ذیل میں لکھ دیتے ہیں جو اسی اشتہار میں اس نے استعمال کئے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ قولہ۔ مرزا بارہا متفرق مواضع کے مباحثات میں شرمندہ اور لاجواب ہوا اور ہر مجمع میں خائب اور خاسر اور نامراد رہا۔