زجر اور توبیخ سے جواب دیا گیا تھااور قرآن شریف میں اقتراحی نشانوں کے مانگنے والوں کو یہ جواب دیا گیا تھاکہ 333 ۱ یعنی خدا تعالیٰ کی شان اس تہمت سے پا ک ہے کہ کسی اس کے رسول یا نبی یا ملہم کو یہ قدرت حاصل ہوکہ جو الوہیّت کے متعلق خارق عادت کام ہیں ان کو وہ اپنی قدرت سے دکھلائے اور فرمایا کہ ان کو کہہ دے کہ میں ؔ تو صرف آدمیوں میں سے ایک رسول ہوں جو اپنی طرف سے کسی کام کے کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔ محض امر الٰہی کی پیروی کرتاہوں ۔ پھر مجھ سے یہ درخواست کرنا کہ یہ نشان دکھلا اور یہ نہ دکھلا سراسر حماقت ہے ۔جو کچھ خدا نے کہا وہی دکھلا سکتا ہوں نہ اور کچھ۔ اور انجیل میں خود تراشیدہ نشان مانگنے والوں کو صاف لفظوں میں حضرت مسیح مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ اس زمانہ کے حرام کار لوگ مجھ سے نشان مانگتے ہیں ان کو بجز یونس نبی کے نشان کے اور کوئی نشان دکھلایانہیں جائے گا یعنی نشان یہ ہوگا کہ باوجود دشمنوں کی سخت کوشش کے جو مجھے سولی پر ہلاک کرنا چاہتے ہیں مَیں یونس نبی کی طرح قبر کے پیٹ میں جو مچھلی سے مشابہ ہے زندہ ہی داخل ہوں گا اور زندہ ہی نکلوں گا اور پھر یونس کی طرح نجات پاکر کسی دوسرے ملک کی طرف جاؤں گا۔ یہ اشارہ اس واقعہ کی طرف تھا جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ہے جیسا کہ اُس حدیث سے ثابت ہے کہ جو کنز العمال میں ہے یعنی یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے نجات پاکر ایک سرد ملک کی طرف بھاگ گئے تھے یعنی کشمیر جس کے شہر سری نگر میں ان کی قبر موجود ہے۔ غرض جب حضرت مسیح سے ان کے دشمنوں نے نشان مانگا اور میاں عبدالحق کی طرح بعض خودتر اشیدہ نشان پیش کئے کہ ہمیں یہ دکھلاؤ اور یہ دکھلاؤ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہی جواب تھا جو ابھی ہم نے تحریر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ میاں عبد الحق کا ایسے اقتراحی نشان