3 ۱؂ کامصداق ہے تو اس کو عبدالحق کی وکالت کی ضرورت نہیں میں دوسو کوس تک کے کرایہ کاخود ذمہ وار ہوسکتا ہوں چاہیے کہ وہ کسی سے قرض لے کر لاہور پہنچ جائے اور اپنے شہر کے کسی رئیس کاسار ٹیفکیٹ مجھے دکھلا دے کہ حقیقت میں اس مولوی یا پیر زادہ پر سخت رزق کی مار نازل ہے قرضہ لے کر لاہور میں پہنچا ہے۔ تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ کرایہ میں دے دوں گا بشرطیکہ کوئی نام کا مولوی یا پیرزادہ نہ ہو نامی ہو جیسے نذیر حسین دہلوی وغیرہ۔ اور اگر یہ تجویز منظوؔ ر نہیں تو صرف ضلع لاہور امرتسر گورداسپورہ لدھیانہ کے مولوی اور مشائخ اکٹھے ہو جائیں ان میں سے بھی بشرط مذکورہ بالاہر ایک مصیبت زدہ کا کرایہ میں دے دوں گا۔ وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاعلموا انکم سترجعون الی اللّٰہ ثم تُسءَلون۔ پھر میاں عبد الحق نے یہ کارروائی کی ہے کہ یہ عذر کرکے جس کا ابھی ہم نے جواب دیاہے اپنی طرف سے ٹھٹھے او رہنسی سے ایک نشان مانگا ہے او راس ٹھٹھے میں گذشتہ منکرین سے کم نہیں رہے۔ کیونکہ عرب کے لوگوں نے اس قسم کے ہنسی اور ٹھٹھے سے کبھی نشان نہیں مانگا کہ فلاں صحابی کی ٹانگ کمزور ہے وہ درست ہوجائے یا اس کی کسی آنکھ میں بصارت نہیں وہ ٹھیک ہو جائے ۔ہاں مکہ کے لوگوں نے یہ نشان مانگا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر سونے کا ہو جائے اور اس کے ارد گرد نہریں بھی جاری ہوں اور نیز یہ کہ آپ ان کے دیکھتے ہوئے آسمان پر چڑھ جائیں اور دیکھتے دیکھتے آسمان پر سے اتر آئیں اورخدا کی کتاب ساتھ لاویں اور وہ اس کو ہاتھ میں لے کر ٹٹول بھی لیں تب ایمان لائیں گے۔ اس درخواست میں اگرچہ جہالت تھی لیکن میاں عبدالحق کی طرح ایذا دینے والی شرارت نہ تھی۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لوگوں نے نشان مانگے تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اُن درخواست کنندہ لوگوں کو ان کے مُنہ مانگے نشان نہیں دیئے گئے تھے بلکہ